உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پٹنہ میں دو روزہ عالمی اردو کانفرنس میں اردو کے فروغ پر تبادلہ خیال

    پٹنہ : بہار اردو اکیڈمی کی جانب سے پٹنہ میں دو روزہ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک اور بیرونی ملک کے ادیبو ں نے اردو کی تعلیم کے ساتھ اردو کو درپیش مسائل پر خاص طور سے غور و فکر کیا۔اس پروگرام میں بڑی تعداد میں اردو ادیب، صحافی اور شاعروں نے شركت کی۔

    پٹنہ : بہار اردو اکیڈمی کی جانب سے پٹنہ میں دو روزہ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک اور بیرونی ملک کے ادیبو ں نے اردو کی تعلیم کے ساتھ اردو کو درپیش مسائل پر خاص طور سے غور و فکر کیا۔اس پروگرام میں بڑی تعداد میں اردو ادیب، صحافی اور شاعروں نے شركت کی۔

    پٹنہ : بہار اردو اکیڈمی کی جانب سے پٹنہ میں دو روزہ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک اور بیرونی ملک کے ادیبو ں نے اردو کی تعلیم کے ساتھ اردو کو درپیش مسائل پر خاص طور سے غور و فکر کیا۔اس پروگرام میں بڑی تعداد میں اردو ادیب، صحافی اور شاعروں نے شركت کی۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      پٹنہ : بہار اردو اکیڈمی کی جانب سے پٹنہ میں دو روزہ عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں ملک اور بیرونی ملک کے ادیبو ں نے اردو کی تعلیم کے ساتھ اردو کو درپیش مسائل پر خاص طور سے غور و فکر کیا۔اس پروگرام میں بڑی تعداد میں اردو ادیب، صحافی اور شاعروں نے شركت کی۔


      کانفرنس میں شرکاء نے اردو کے فروغ کے سلسلے میں اردو تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیا۔ این سی پی یو ایل کے ڈائركٹر پروفیسر ارتضی کریم نے کہا کہ اردو کی موجودہ حالت کیلئے ذمہ دار خود اردو داں طبقہ ہے۔ ارتضی کریم کے مطابق اردو داں طبقہ اردو کے سلسلے میں سنجیدہ ہو جائے ، تو اردو کے مسائل کو آسانی سے حل کیا جاسکتا ہے ۔


      وہیں دیگر ممالك سے آئے اردو ادیبوں نے اردو کے سلسلے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل مرتب نہیں کئے جانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ اردو کے تعلق سے زیادہ تر لوگوں نے اردو کی تعلیم، اسكولوں میں اردو اساتذہ کی کمی ، اردو اخبارات و اردو کی کتابیں نہیں پڑھنے کی بات کہی۔


      پٹنہ کے اے این سنہا انسٹیٹيوٹ میں منعقدہ کانفرنس میں دیگر مقررین نے کہا کہ آج اردو زبان نہ صرف ہندوستان اور پاکستان میں بولی جاتی ہے ، بلکہ اب اردو زبان کا دائرہ برصغیر سے نکل کر یورپ اور امریکہ کی سرحدوں میں بھی داخل ہو گیا ہے۔ اردو زبان پر دنیا کے کئی ملکوں میں کام ہو رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ دیگر ممالك کی یونیورسٹیوں میں بھی اب اردو کی تعلیم دی جارہی ہے۔


      بہار کے محکمہ اقلیتی فلاح کے وزیر ڈاکٹر عبد الغفور نے اس موقع پر کہا کہ حکومت اردو کے فروغ کے سلسلے میں سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسكولو ل میں بچے اردو سے دیگر مضامین نہیں پڑھتے ہیں ، جب كہ دوسری سرکاری کی زبان ہونے کی حیثیت سے یہ سہولت انہیں حاصل ہے ، لیکن وزیر یہ بتانا بھول گئے کہ اسكولوں میں جب اردو کے اساتذہ ہی نہیں ہیں ، تو دیگر مضامین پڑھانے کی بات کرنا بے معنی ہے۔


      اس موقع پر بہار اردو اکیڈمی نے بہت سے لوگوں کو اعزاز سے بھی نوازا ۔ اعزاز یافتگان میں پروفیسر ارتضی کریم، خواجہ اكرام الدين، جے این یو کے پروفیسر انور پا شا، روزنامہ قومی تنظیم کے مدیر اشرف فرید اور سینئر صحافی ریاض کا نام قابل شامل ہیں ۔

      First published: