ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

دہلی انتخابات کے بعد اب بہارکا سیاسی درجہ حرارت میں ہوگا اضافہ

ایک طرف بی جے پی - جے ڈی یو اور ایل جے پی کی تکڑی ہےتو دوسری طرف پانچ اہم سیاسی جماعتوں کے اتحاد سےبنا عظیم اتحاد۔ ظاہر ہےکہ دونوں ہی گروپوں کی طرف سےسیاسی حالات بنانےبگاڑنے کا بھی کھیل شروع ہونے والا ہے۔

  • Share this:
دہلی انتخابات کے بعد اب بہارکا سیاسی درجہ حرارت میں ہوگا اضافہ
تیجسوی یادو اور نتیش کمار (فائل فوٹو)

پٹنہ: دہلی اسمبلی انتخابات کے ایگزٹ پول بتا رہے ہیں کہ عام آدمی پارٹی اکثریت کے ساتھ دوبارہ حکومت بنانےجارہی ہے۔ حالانکہ، ابھی نتائج کا انتظار ہے۔ اس کے ساتھ انتظار اس بات کا بھی ہےکہ دہلی کی سیاسی ہوا اب بہارکی طرف مڑنے والی ہے۔ یہاں کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہونے والا ہے۔ ایک طرف بی جے پی - جے ڈی یو اور ایل جے پی اتحاد ہےتو دوسری طرف پانچ اہم سیاسی جماعتوں کےاتحاد سےبنا عظیم اتحاد۔ ظاہر ہےکہ دونوں ہی گروپوں کی طرف سے سیاسی حالات بنانے بگاڑنےکا بھی کھیل شروع ہونے والا ہے۔ سینئرصحافی اشوک کمار شرما کہتے ہیں کہ بہار کی سیاست میں کوئی اکیلے پارٹی بازی مارنےکی حالت میں دہائیوں سےنہیں ہے، ایسے میں بہارکےانتخابی حالات کی مضبوطی پرمنحصر رہےگا۔ مطلب یہ کہ جو اتحاد زمین پرجتنا مضبوط نظر آئےگا، اس کےلئےنتائج اتنے ہی مثبت رہیں گے۔


خود کو مضبوط کرنے میں مصروف بی جے پی


سینئرصحافی روی اپادھیائےبتاتے ہیں کہ اس الیکشن میں بی جے پی - جے ڈی یو اتحاد اہم کڑی ثابت ہونے والا ہے۔ تقریباً 72 ہزار بوتھوں پر جےڈی یو کےبوتھ صدورکی تعیناتی بھی کردی گئی ہے۔ تنظیمی طورپر پہلےسے مضبوط بی جے پی اپنی تنظیم کو سرگرم رکھنےکے قواعد میں مصروف ہوگئی ہے۔


جے ڈی یو نے دیا یہ اشارہ

اشوک کمار شرما کہتے ہیں کہ جے ڈی یو نےجہاں پرشانت کشور (پی کے) اور پون ورما جیسے بی جے پی مخالف لیڈروں کو باہرکا راستہ دکھا کر اشارہ دے دیا ہےکہ وہ بہار میں این ڈی اے کی مضبوطی کے لئے ساتھ ساتھ ہے۔ وہیں، بی جے پی کی طرف سے امت شاہ نے وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں پورا بھروسہ ظاہرکرتے ہوئے یہ بتا دیا ہےکہ ہمارے درمیان کہیں کوئی اختلاف یا تعطل نہیں ہے۔ ظاہر ہے یہ  اتحاد الیکشن نتائج پرضروراثر ڈالےگا۔

آرجے ڈی کے سامنے بڑا چیلنج

روی اپادھیائے کہتے ہیں کہ لوک سبھا الیکشن میں زبردست شکست کے بعد آرجےڈی نے بھی تنظیمی طورپرخود میں کافی تبدیلی کی ہیں۔ تنظیم میں جہاں جگدانند سنگھ کو ریاست کی کمان دے کر اعلیٰ ذات سے دوری ختم کرنےکی قواعد شروع کی گئی۔ وہیں ضلع صدور کے عہدوں پر انتہائی پسماندہ، دلتوں اور دیگر طبقوں کی حصہ داری بڑھا کر تمام طبقہ میں رسوخ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایسے میں آرجے ڈی بھی آنے والے وقت میں بڑا چیلنج دینے کی تیاری میں ہے۔
First published: Feb 09, 2020 01:04 PM IST