உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سال 23-2022 میں 100 کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنزکےقیام کیلئےوزارت زراعت سےملی منظوری، چارہ کی حفاظت اہم مقصد

    یہ پچھلے چالیس سال سے مستحکم ہے

    یہ پچھلے چالیس سال سے مستحکم ہے

    بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ، کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنز تشکیل دے گا اور اسے فروغ دے گا۔ اس کے تحت چارے پر مرکوز جانوروں کی پالنے کی سرگرمیوں کو ایک ثانوی سرگرمی (چارہ پلس ماڈل) کے طور پر پیش کیا جائے گا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai | Jammalamadugu | Hyderabad | Lucknow | Uttar Athiabari
    • Share this:
      وزارت زراعت نے نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ (NDDB) کو اس مالی سال کے دوران 100 چارہ مرکوز کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنز (FPOs) کے قیام کے لیے عمل درآمد کرنے والی ایجنسی کے طور پر نامزد کیا ہے تاکہ ملک میں چارے کے خسارے کی صورتحال کو حل کیا جا سکے۔ وزارت ماہی پروری، جانوروں کی پرورش اور ڈیری نے چارے پر مبنی کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنز کے قیام کی تجویز پیش کی تھی اور وزارت زراعت سے درخواست کی تھی کہ 10,000 نئے کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنز کی تشکیل اور فروغ اسکیم کے تحت ایسے کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنز کو اجازت دی جائے۔

      بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ نیشنل ڈیری ڈیولپمنٹ بورڈ، کسان پروڈیوسرز آرگنائزیشنز تشکیل دے گا اور اسے فروغ دے گا۔  اس کے تحت چارے پر مرکوز جانوروں کی پالنے کی سرگرمیوں کو ایک ثانوی سرگرمی (چارہ پلس ماڈل) کے طور پر پیش کیا جائے گا۔  وزارت زراعت نے 4 نومبر کو اس بارے میں ایک حکم نامہ جاری کیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ محکمہ زراعت اور کسانوں کی بہبود کی مجاز اتھارٹی نے نیشنل ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کو اس اسکیم کے تحت عمل درآمد کرنے والی ایجنسی کے طور پر نامزد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ 10,000 نئے ایف پی اوز کی تشکیل اور فروغ دیا جائے گا۔

      گزشتہ ماہ چارے کے بحران پر جائزہ اجلاس کے بعد وزارت کے ایک سینئر اہلکار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ایک عام سال میں ملک میں چارے کا خسارہ 12 تا 15 فیصد، 25 تا 26 فیصد اور 36 فیصد ہوتا ہے۔ جس میں بالترتیب سبز چارہ، خشک چارہ اور مرتکز چارہ شامل ہے۔ خسارے کی بنیادی وجہ موسمی اور علاقائی عوامل ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: 


      عہدیدار نے یہ بھی بتایا کہ چارے میں موجودہ افراط زر کا رجحان گندم کی فصلوں میں کمی اور ڈیزل کی طرح ان پٹ لاگت میں اضافے کی وجہ سے ہے۔ پی ٹی آئی کی طرف سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق چارے کے نیچے کا کل رقبہ فصلی رقبہ کے تقریباً 4.6 فیصد تک محدود ہے اور یہ پچھلے چالیس سال سے مستحکم ہے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: