உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اردو زبان کو اردو آبادی کی نسلوں سے غائب کرنے کی ہو رہی ہے سازش: اخترالایمان

     ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان کا کہنا ہے کہ شروع دن سے ہی اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان مانتے ہوئے حکومت نے اردو کو مٹانے کی سازش کی ہے۔

    ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان کا کہنا ہے کہ شروع دن سے ہی اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان مانتے ہوئے حکومت نے اردو کو مٹانے کی سازش کی ہے۔

    ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان کا کہنا ہے کہ شروع دن سے ہی اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان مانتے ہوئے حکومت نے اردو کو مٹانے کی سازش کی ہے۔

    • Share this:
    بہار کی 17 فیصدی آبادی کی زبان کو ختم کرنے کی حکومت سازش کر رہی ہے۔ ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان کا کہنا ہے کہ شروع دن سے ہی اردو زبان کو مسلمانوں کی زبان مانتے ہوئے حکومت نے اردو کو مٹانے کی سازش کی ہے۔ اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ ضرور دیا گیا لیکن حکومتوں کی جانب سے اردو والوں کے سر پر تاج بھی رکھا گیا اور گردن پر شمشیر بھی۔ سابقہ حکومت نے بھی اردو کے ساتھ انصاف نہیں کیا اور موجودہ نتیش حکومت بھی اردو کا گلا دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایم آئی ایم کا کہنا ہیکہ خود وزیر اعلیٰ اس بات کو کہتیں رہے ہیں کی تمام اسکولوں میں اردو کے ٹیچروں کو بحال کیا جائے گا لیکن وزیر اعلیٰ کے اعلان پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ ساتھ ہی اردو کے تمام ادارہ اردو اکیڈمی، اردو مشاورتی کمیٹی، اردو لائبریری کا برا حال ہے۔ طلباء کو اردو کی کتابیں تک دستیاب نہیں کرائی جارہی ہے۔

    ابتدائی تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے کا حق ہے۔ لیکن آئینی حق کو بھی حکومت دینے کو تیار نہیں ہے۔ بہار ٹیکسٹ بوک کارپوریشن اردو کی نصابی کتابوں کو شائع نہیں کرتا ہے اور اس تعلق سے حکومت کی جانب سے کبھی ٹھوس اقدامات نہیں کیا گیا۔ محبان اردو کو اس بات پر افسوس ہے۔ کچھ لوگ حکومت کی جانب سے پزیرائ کئے جانے کے بعد اردو کا مسئلہ فراموش کر دیتے ہیں لیکن ایسے اردو والوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کی اردو صرف ایک لسانی زبان نہیں ہے بلکہ اردو ہماری تہزیبی زبان بھی ہے۔

    اردو زبان کو آہستہ آہستہ محبان اردو کی نسلوں سے غائب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایم آئی ایم کے ریاستی صدر اخترالایمان نے اردو آبادی کو اس تعلق سے سنجیدگی سے غور کرنے اور اردو کو بچانے کے لئے ایک زور دار تحریک چلانے کی اپیل کی ہے۔ اخترالایمان نے دعوی کیا ہیکہ صوبہ میں اردو اور اردو سے جڑے اداروں کی بنیادی حالت تک اب ٹھیک نہیں ہے۔ بار بار مطالبہ کرنے کے بعد بھی حکومت اس پر کاروائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایسے میں کیا اردو آبادی کا یہ فرض نہیں ہیکہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کی کوشش کرے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: