உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شراب بندی سے اپوزیشن کو ہو رہا ہے پیٹ میں درد! وہ نہیں چاہتے ہیں کی غریب اور دلت کا بیٹا تعلیم حاصل کر کے آگے بڑھے: مولانا غلام رسول

    ۔ اگر آپ دودھ نہیں پلا سکتے ہیں تو زہر پلانے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے۔

    ۔ اگر آپ دودھ نہیں پلا سکتے ہیں تو زہر پلانے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے۔

    جےڈی یو ایم ایل سی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہیکہ ایک طبقہ کا ووٹ حاصل کر کے وہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں لیکن وزیر اعلیٰ اس طبقہ کو تعلیم دلا کر ان کی زندگی بدلنے میں لگے ہیں۔ اقتدار کی بھوک اپوزیشن کو شراب بندی کے خلاف کھڑا کر رہی ہے۔ اگر آپ دودھ نہیں پلا سکتے ہیں تو زہر پلانے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے۔

    • Share this:
    بہار میں شراب بندی کا معاملہ ہمیشہ سرخیوں میں آتا رہا ہے۔ شراب کے ساتھ گرفتار ہونے والے لوگوں سے جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ صوبہ میں شراب بندی کے باوجود شراب کے ساتھ لوگ گرفتار ہوتے رہے ہیں۔ اس مسئلہ پر ایک بار پھر سے حکومت نے سخت رخ اختیار کیا ہے وہیں اپوزیشن شراب بندی کو لیکر حکومت کی جم کر مخالفت کرتی ہے۔ یہاں تک کی خود برسراقتدار جماعت کے کچھ لوگ شراب بندی پر غور کرنے کا مطالبہ حکومت سے کئی بار کر چکیں ہیں لیکن حکومت اپنے فیصلے پر قائم ہے۔ وزیر اعلی نے واضح کیا ہیکہ شراب بندی میں کسی طرح کا کوئ سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ تھانوں کے انچارج تک کو انکے علاقے میں شراب پکڑانے پر سزا دینے کا اعلان کیا جا چکا ہے۔
    جےڈی یو ایم ایل سی اور پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہیکہ جو لوگ شراب بندی کی مخالفت دلت، پیچھڑا اور غریب کا نام لیکر کر رہے ہیں وہ دراصل انکے دشمن ہیں۔ مولانا غلام رسول بلیاوی نے کہا کی وزیر اعلیٰ نے کافی غور فکر کے ساتھ صوبہ میں شراب بندی کا قانون بنایا تھا۔ اس کا مقصد کیا تھا اور اس پر آج سیاست کیوں ہو رہی ہے اس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ مولانا غلام رسول بلیاوی کے مطابق شراب پینے کے وجہ سے سماج میں تناؤ، فساد، مارپیٹ اور ہر خرابی روزانہ کا معمول تھا۔ شراب سے سب سے زیادہ دلت، پیچھڑا اور غریب طبقہ متاثر ہوتا ہے۔ اس طبقہ کا صحت اور تعلیم برباد ہو چکا تھا۔

    نوجوان بچہ شراب پی کر اپنا صحت خراب کررہے تھے۔ وزیر اعلیٰ نے ایک صحت مند سماج کی تشکیل کے لئے شراب بندی کا قانون بنایا ہے۔ بار بار اپوزیشن اس مدّعہ کو ہوا دیکر سیاست کر رہی ہے۔ ہمارا کہنا ہیکہ اگر آپ دودھ نہیں پلا سکتے ہیں تو غریب آبادی کو ظہر پلانے کا حق آپ کو کس نے دیا ہے۔ سیاست اسلئے ہو رہی ہیکہ دلت، پچھڑے، مزدور اور غریب کا بچہ تعلیم حاصل نہیں کرے۔ وہ اپنا لائف اسٹائل چینج نہیں کرے۔ انکے بچہ اسکول، کالج نہیں جائے۔ وہ ایک طبقے کا ووٹ لیکر اقتدار میں بنے رہنا چاہتے ہیں۔ پہلے دلت اور پچھڑوں کے باپ دادا سے ووٹ لیکر وہ اقتدار میں رہے اور اب وہ چاہتے ہیں کی انکی نسلوں سے بھی ووٹ لیتے رہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ نے کہا کی اب یہ نہیں چلے گا، ہم اس کو پڑھا لکھا کر اس قابل بنا دیں گے کی وہ اپنا لائف اسٹائل بدل سکے اور اپنا فیصلہ خود لے سکے۔ پہلے شراب کے سبب بیمار ہونے والے اور مرنے والے لوگوں کی کثیر تعداد ہوا کرتی تھی اب اس میں کمی آئی ہے۔

    یہ تصویر کھلی آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے پھر بھی ووٹ کی سیاست کے سبب اپوزیشن کو شراب بندی جیسے مثبت معاملے میں منفی چیز دکھائی دے رہی ہے۔ اس بات کو ان لوگوں کو سمجھنا ہوگا جو شراب کی وجہ سے زیادہ متاثر تھے اور شراب کی وجہ سے ہی انسانوں کے بجائے جانوروں جیسی زندگی گزار رہے تھے۔ حکومت شراب کو بند کر سماج میں بدلاؤ لانے کی کوشش کی ہے تو اس پر بھی لوگ سیاسی روٹی سیکنے سے باز نہیں آ رہے ہیں ایسے لوگوں پر افسوس ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: