ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں بدل رہا ہے مسلمانوں کا نظریہ ، کئی سیاسی پارٹیوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے نقصان

آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے اس اعلان کے بعد مسلمانوں کی سیاست کرنے والی پارٹٰیوں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ مورچہ اپنے دعوے کو زمین پر لاگو کرنے میں کامیاب ہوگئی تو نتیش کمار کے نام پر مسلمانوں کا بڑا طبقہ جے ڈی یو کی حمایت کرے گا اور اگر ایسا ہوا تو بہار میں ایک نئے سیاسی باب کا اضافہ ہوگا ۔

  • Share this:
بہار میں بدل رہا ہے مسلمانوں کا نظریہ ، کئی سیاسی پارٹیوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے نقصان
بہار میں بدل رہا ہے مسلمانوں کا نظریہ ، کئی سیاسی پارٹیوں کو اٹھانا پڑ سکتا ہے نقصان

بہار کی مسلم سیاست میں نتیش کمار نے بڑا بدلاؤ کیا ہے ۔ یہ مانا جاتا تھا کہ مسلمان سیکولرازم کے نام پر ہی صرف ووٹ کرتا ہے ، لیکن اب کام کی بنیاد پر مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ووٹ کرنے کی بات کرتا ہے ۔ آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کی مانیں تو وقت بدلنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو بھی اپنی سیاسی سوچ میں تبدیلی لانی چاہئے ۔ مورچہ دلت مسلمانوں کی نمائندگی کرتا ہے اور قریب دو دہائی سے دلت مسلمانوں کے مسئلہ پر لگاتار تحریک چلاتا رہا ہے ۔ مورچہ کے قومی صدر ڈاکٹراعجاز علی کے مطابق نتیش کمار نے ہر طبقہ کی فلاح بہبود کے لئے کام کیا ہے اور اس میں اقلیتی آبادی بھی شامل ہے ۔ ڈاکٹر اعجاز کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ اسمبلی انتخاب میں دلت مسلم آبادی کام کو بنیاد بنائے گی ۔


آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کے اس اعلان کے بعد مسلمانوں کی سیاست کرنے والی پارٹٰیوں کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ مورچہ اپنے دعوے کو زمین پر لاگو کرنے میں کامیاب ہوگئی تو نتیش کمار کے نام پر مسلمانوں کا بڑا طبقہ جے ڈی یو کی حمایت کرے گا اور اگر ایسا ہوا تو بہار میں ایک نئے سیاسی باب کا اضافہ ہوگا ۔ ان پارٹیوں کو ایک بار پھر سے جھٹکا لگے گا جو صرف مسلمانوں کو ترقی کا خواب دیکھاتے ہیں لیکن ان کے مسئلہ پر بات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھتے ہیں۔


مسلم سیاست کے جانکاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مرتبہ اسمبلی انتخاب میں مسلمانوں کا ووٹ بکھر جائے گا ۔ آل انڈیا یونائٹیڈ مسلم مورچہ کا دعویٰ ہے کہ مسلم ووٹ تقسیم ہوگا ، لیکن دلت مسلمان نتیش کمار کو ووٹ کریں گے ۔ مورچہ کا کہنا ہے کہ اقلیتوں کی فلاح کے لئے بہار میں جو بھی کام ہوا ہے ، اس کی شروعات نتیش کمار نے کی ہے ۔


مورچہ کا کہنا ہے کہ بھلے ہی مسلمانوں کی امیدوں پر ابھی بھی حکومت پوری طرح سے کھری نہیں اتر پائی ہے ۔ تاہم پہلی مرتبہ اقلیتوں کی فلاح ، ریاست کی ترقی اور لا اینڈ اوڈر کے نام پر موجودہ حکومت نے ہی اقدامات کئے ہیں ۔ مورچہ کا کہنا ہے کہ یہ الیکشن مسلمانوں پر سیاست کرنے والے لوگوں کو آئینہ بھی دکھانے کا کام کرے گا ۔
First published: Jun 29, 2020 08:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading