ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

ملک کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کی لوگوں کی منشا : امرتیہ سین

کولکاتہ : نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے آج کہا کہ لوگوں میں یہ خیال پنپ رہا ہے کہ ملک فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہو رہا ہے۔ پروفیسر سین نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر یہاں ایک پروگرام میں کہا کہ ایسی صورت حال بن گئی ہے جہاں سیکولر ازم کا استعمال خراب لفظ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمہوریت اور آزادی لفظ ہو سکتا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 23, 2016 10:06 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
ملک کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کی لوگوں کی منشا : امرتیہ سین
کولکاتہ : نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے آج کہا کہ لوگوں میں یہ خیال پنپ رہا ہے کہ ملک فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہو رہا ہے۔ پروفیسر سین نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر یہاں ایک پروگرام میں کہا کہ ایسی صورت حال بن گئی ہے جہاں سیکولر ازم کا استعمال خراب لفظ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمہوریت اور آزادی لفظ ہو سکتا ہے۔

کولکاتہ : نوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین نے آج کہا کہ لوگوں میں یہ خیال پنپ رہا ہے کہ ملک فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہو رہا ہے۔ پروفیسر سین نے نیتا جی سبھاش چندر بوس کی جینتی کے موقع پر یہاں ایک پروگرام میں کہا کہ ایسی صورت حال بن گئی ہے جہاں سیکولر ازم کا استعمال خراب لفظ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد جمہوریت اور آزادی لفظ ہو سکتا ہے۔


انہوں نے کہا کہ ملک میں موجودہ وقت میں فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کرنے کی حالات پیدا کی جا رہی ہے۔ سیکولرازم لفظ کااستعمال خراب لفظ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔ یہ بہت عجیب ہے۔انہوں نے کہا کہ میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب جمہوریت اور آزادی کا خراب لفظ کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ آزادی کے بعد ہندوستان کی حکومت نے مساوات اور انصاف کے معاملے پر زیادہ غور کیا اور میرا خیال ہے کہ موجودہ حکومت اس سلسلے میں بہت کم کام کر رہی ہے۔


پروفیسر سین نیتا جی کی موت کے حالات پر انہوں نے کہا کہ اس پر اوچھی ذہنیت کی سیاست کی جا رہی ہے جو ہمیں آنجہانی سبھاش چندر بوس کی دور اندیشی سے ہٹا رہی ہے، جس کی زندگی کے ہر شعبے میں کافی ضرورت ہے۔


نیتا جی سے منسلک خفیہ فائلوں کے عام ہونے پر پروفیسر سین نے کہا کہ اس کے پیچھے منشا یہ سامنے آ رہی ہے کہ سبھاش چندر بوس کی زندگی کے آخری دنوں میں کانگریس کا خصوصی کردار تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مساوات، انصاف، تعلیم اور سب کے لئے صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ سبھاش چندر بوس محسوس کرتے تھے۔ آج کے وقت میں بھی یہ چیزیں بہت اہم ہیں اور اس خصوصی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔

First published: Jan 23, 2016 10:05 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading