உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگال میں کارواں نکال کر شروع کی جائے گی سی اے اے اور این آر سی مخالف تحریک

    سی اے اے ایک ایسا قانون جس پر ملک بھر میں بے چینی دیکھی جارہی ہے وہیں ملک میں ایک بڑی آبادی ایسی بھی ہے جو اس ایکٹ کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔

    سی اے اے ایک ایسا قانون جس پر ملک بھر میں بے چینی دیکھی جارہی ہے وہیں ملک میں ایک بڑی آبادی ایسی بھی ہے جو اس ایکٹ کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔

    سی اے اے ایک ایسا قانون جس پر ملک بھر میں بے چینی دیکھی جارہی ہے وہیں ملک میں ایک بڑی آبادی ایسی بھی ہے جو اس ایکٹ کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔

    • Share this:
    سی اے اے ایک ایسا قانون جس پر ملک بھر میں بے چینی دیکھی جارہی ہے وہیں ملک میں ایک بڑی آبادی ایسی بھی ہے جو اس ایکٹ کے سائے میں خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ بنگال میں متوا برادری بھی سی اے اے کی حمایت میں اگے اتے ہوئے اسکے نفاذ کا مطالبہ کررہا ہے۔ بنگال میں متوا برادری کی بڑی آبادی آباد ہے، ووٹ کی سیاست میں ان کی اہمیت کافی اہم ہے کئی سیٹوں پر متوا برادری کا ووٹ فیصلہ کن حثیت رکھتا ہے۔ بنگلہ دیش سے آکر آباد ہونے والے متوا برادری کو بنگال میں دیگر سہولیات کے ساتھ ووٹ ڈالنے کا بھی حق حاصل ہے لیکن این آر سی کے اعلان سے یہ برادری خوفزدہ ہے اور سی اے اے کو خود کے لئے محفوظ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ متوا برادری کے لئے سی اے اے کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا جارہا ہے۔

    وزیر داخلہ امیت شاہ نے اپنے حالیہ بنگال دورے کے دوران متوا برادری کے گڑھ ٹھاکر نگر میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کورونا بحران سے دوچار ہے کورونا ویکسین لگانے کا عمل مکمل ہونے کے بعد سی اے اے کو نافذ کیا جائے گا۔ وزیر داخلہ کے بیان کے بعد بنگال میں سی اے اے و این ار سی مخالف فورم نے ریاست میں شہریت تحفظ کارواں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ کارواں 26 فروری سے نکالا جائے گا جسکا اختتام 5 مارچ کو ہوگا۔ فورم کے کنوینر منظر جمیل نے کہا یہ کارواں ندیا ضلع سے نکالا جائے گا جہاں متوا برادری کی بڑی آبادی آباد ہے جس کا مقصد متوا برادری کو سی اے اے کے تعلق سے بیدار کرنا ہے۔ فورم کے رکن عمر اویس اور پراسنجیت بوس نے کہا کہ سی اے اے کے نام پر ایک خاص طبقے کو ہراساں کیا جارہا ہے۔ وہیں بڑی آبادی کو گمراہ بھی کیا جارہا ہے ۔ کارواں نکال کر سی اے اے مخالف تحریک کتنی کارگر ثابت ہو گی یہ دیکھنا اہم ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: