ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

آسام : اسپتال میں بدل گئے ہندو اور مسلم کنبوں کے نومولود بچے ، عدالت سے ملا خوشگوار حل 

آسام کے ایک اسپتال میں بچہ تبدیل ہونے کے معاملہ کا عدالت میں خوشگوار حل نکلا ہے۔ عدالت نے مسلم کنبہ کو ہندو بچہ اور ہندو کنبہ کو مسلم بچہ کی پرورش کی اجازت دیدی ہے ۔

  • Share this:
آسام : اسپتال میں بدل گئے ہندو اور مسلم کنبوں کے نومولود بچے ، عدالت سے ملا خوشگوار حل 
آسام کے ایک اسپتال میں بچہ تبدیل ہونے کے معاملہ کا عدالت میں خوشگوار حل نکلا ہے۔ عدالت نے مسلم کنبہ کو ہندو بچہ اور ہندو کنبہ کو مسلم بچہ کی پرورش کی اجازت دیدی ہے ۔

گوہاٹی : آسام کے ایک اسپتال میں بچہ تبدیل ہونے کے معاملہ کا عدالت میں خوشگوار حل نکلا ہے۔ عدالت نے مسلم کنبہ کو ہندو بچہ اور ہندو کنبہ کو مسلم بچہ کی پرورش کی اجازت دیدی ہے ۔ عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے بالغ ہونے پر بچے اس کا فیصلہ خود کریں گے کہ وہ پرورش کرنے والے والدین کے پاس رہیں گے یا پھر اپنے پیدا کرنے والے والدین کے ساتھ رہنا چاہیں گے ۔ حالانکہ والدین بھیبچے تبدیل کرنا نہیں چاہتے ہیں ، مگر ان کی خواہش ہے کہ قصور وار اسپتال کے خلاف کارروائی کی جائے۔

یہ کسی بالی ووڈ فلم کی کہانی جیسا ہی ہے ۔ 2015 میں بچوں کی ایک اسپتال میں پیدائش ہوئی تھی ۔ ایک بچہ کی پیدائش بوڈو کنبہ میں ہوتی ہے جبکہ دوسرا آسام کے ڈارنگ ضلع کے ایک مسلم کنبہ میں پیدا ہوتا ہے ، مگر پیدائش کے بعد دونوں بچے اسپتال میں تبدیل ہوجاتے ہیں ۔ واقعہ کے تین سال بعد کافی جد و جہد اور ڈی این اے جانچ کے بعد دونوں کنبے بچوں کی تبدیلی پرمتفق ہوجاتے ہیں ، لیکن جب بچوں کی سپردگی کا دن آیاتو دونوں بچوں نے اپنی ان ماوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا ، جنہوں نے اب تک ان کی پرورش کی تھی ۔ خوف کی وجہ سے دونوں بچے اپنی ماں سے ہی چپکے رہے ، جس کے بعد جذبات سے اوپر اٹھ کر دونوں کنبوں نے بچے کی تبدیلی کے خلاف فیصلہ کیا۔

یہ سب 11 مارچ 2015 کو منگول دیوی سول اسپتال سے شروع ہوتا ہے ، جہاں شہاب الدین احمد کی اہلیہ سلمی پروین نے ایک لڑکے کو جنم دیا ۔ جنم کے بعد سے ہی سلمی کو بچہ پر کچھ شک ہونے لگا ۔ سلمی نے کہا کہ جب اس نے بچہ کا چہرہ دیکھا تو اس کا چہرہ کنبہ میں کسی کے ساتھ بھی میل نہیں کھا رہا تھا بلکہ بچہ ایک بوڈو خاتون سے کافی مشابہ نظر آرہا تھا ، جسے اسی دن اسپتال میں زچگی کیلئے داخل کرایا گیا تھا۔

سلمی نے اپنے ان خیالات کو اپنے شوہر کے ساتھ شیئر کیا ، جنہوں نے اسپتال سے رابطہ کیا ۔ تاہم دوسرے جوڑے انل اور شیوالی بوڈو کو اس وقت تک شبہ نہیں ہوا کہ ان کا بچہ اسپتال میں تبدیل ہوگیا تھا ، جب تک انہیں احمد کا خط نہیں ملا ۔ بوڈو کنبہ اس بات پر یقین نہیں کرپارہا تھا کہ اسپتال میں ایسا بھی ہوسکتا ہے ۔ لیکن جب دونوں کنبوں نے ملاقات کی تو صورتحال بدل گئی۔

شہاب الدین احمد نے بتایا کہ اب ہم بچوں کو تبدیل نہیں کریں گے ۔ تاہم اگر وہ مستقبل قریب میں اپنے بائیولوجیکل والدین کے پاس جانا چاہیں گے تو وہ اس کیلئے آزاد ہیں ۔ احمد نے بتایا کہ اسپتال کے خلاف شکایت درج کرلی گئی تاکہ مستقبل میں یہ کہانی دوہرائی نہ جائے ۔ ہم ایک دوسرے کے گھر جارہے ہیں اور مسلسل رابطے میں ہیں۔

First published: Jan 25, 2018 06:46 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading