ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سی اے اے مخالف احتجاج کی تصویریں پوسٹ کرنے پراس پڑوسی ملک کی طالبہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نوٹس ملنے کے 15دنوں کے اندر ملک چھوڑدیں کیوں کہ وہ ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Feb 27, 2020 09:49 PM IST
  • Share this:
سی اے اے مخالف احتجاج کی تصویریں پوسٹ کرنے پراس پڑوسی ملک کی طالبہ کو ملک چھوڑنے کی ہدایت
وشو بھارتی یونیورسٹی: فائل فوٹو

کلکتہ۔ وشو بھارتی یونیورسٹی میں زیر تعلیم بنگلہ دیشی طالبہ کو وزارت داخلہ نے ملک چھوڑنے کی ہدایت دی ہے۔ طالبہ پر الزام ہے کہ وہ ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھی۔ ’افسرا عنیقہ میم‘ مرکزی یونیورسٹی میں انڈرگریجوٹ کی طالبہ ہیں۔انہیں وزارت داخلہ کے تحت کام کرنے والی ’’فارن ریجنل رجسٹریشن آفس کلکتہ‘‘ نے ملک چھوڑنے کا نوٹس دیا ہے۔


نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نوٹس ملنے کے 15دنوں کے اندر ملک چھوڑدیں کیوں کہ وہ ملک مخالف سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ بنگلہ دیش کی کستیا ضلع سے تعلق رکھنے والی افسرا نے 2018 میں ڈیزائننگ کورس میں داخلہ لیا تھا۔ افسرا کے دوست نے کہا کہ نوٹس پر 14فروری کی تاریخ درج ہے۔ افسرا عنیق پر الزام ہے کہ اس نے اپنے فیس بک اکائونٹ پر یونیورسٹی میں ہونے والے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف احتجاج کی تصویریں شئیر کی تھی۔ اس کے بعد سے ہی وہ شوشل میڈیا پر ٹرول ہو رہی ہیں۔تاہم عنیقہ نے نوٹس سے متعلق میڈیا پر کچھ بھی بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔


لکھنئو میں سی اے اے مخالف احتجاج: فائل فوٹو


بنگلہ دیشی ہائی کمیشن کلکتہ کے ایک آفیسر نے کہا کہ اسے اب تک اس سے متعلق کوئی نوٹس نہیں ملا ہے ۔ دوسری طرف وشو بھارتی یونیورسٹی انتظامیہ نے بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ طالبہ نے ویزا کے اصول کی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ ملک مخالف سرگرمیوں اور مواد کو اپنے فیس بک پر شیئر کرتی رہی ہیں۔ وشو بھارتی یونیورسٹی کے ایک ٹیچر نے اس صورت حال کو بھیانک صورت حال سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی میں آزادانہ ماحول کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
First published: Feb 27, 2020 09:47 PM IST