ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال میں اسمبلی الیکشن سے پہلے ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری نے اپنی بے بسی و لاچاری کا کیا اظہار

بنگال کے ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری بھی کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں۔ صدیق اللہ چودھری کو وزیر تو بنایا گیا لیکن مواقع فراہم نہیں کئے گئے۔ مغربی بنگال میں پہلی بار وزیر اعلی ممتا بنرجی نے جمعیتہ علماء ہند کے ممبران کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے نہ صرف الیکشن کے موقع پر ٹکٹ دیا بلکہ وزارت میں جگہ بھی فراہم کی۔

  • Share this:
بنگال میں اسمبلی الیکشن سے پہلے ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری نے اپنی بے بسی و لاچاری کا کیا اظہار
صدیق اللہ چودھری کو وزیر تو بنایا گیا لیکن مواقع فراہم نہیں کئے گئے۔

سیاست میں آگر لیڈران کو اگر کام کرنے کا موقع نہ ملے تو وہ عوام میں اپنی گرفت مضبوط بنانے میں ناکام ہوتا ہے۔ بنگال کے ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری بھی کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار ہیں۔ صدیق اللہ چودھری کو وزیر تو بنایا گیا لیکن مواقع فراہم نہیں کئے گئے۔ مغربی بنگال میں پہلی بار وزیر اعلی ممتا بنرجی نے جمعیتہ علماء ہند کے ممبران کو پارٹی میں شامل کرتے ہوئے نہ صرف الیکشن کے موقع پر ٹکٹ دیا بلکہ وزارت میں جگہ بھی فراہم کی۔ 2016 میں کولکاتا کے دھرمتلہ میں منعقد جمعیت کے ایک احتجاجی پروگرام میں شامل ہوکر وزیر اعلی ممتا بنرجی نے صدیق اللہ چودھری کو اپنی پارٹی میں شامل کیا آور محکمہ لائبریری کا وزیر بنایا تھا۔ سیاسی ماہرین کے مطابق مسلم ووٹ بینک کے لئے صدیق اللہ چودھری کو وزیر بنایا گیا ہے اور ایسے محکمے کی ذمداری دی گئی ہے جہاں کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔ حد تو یہ ہے کہ صدیق اللہ چودھری کو ان کے اپنے اسمبلی حلقے کی بھی ذمداری حاصل نہیں ہے۔


وزیر صدیق اللہ چودھری ترنمول کانگریس کے ہیوی ویٹ لیڈر انوبرتا منڈل کے سامنے بے بس ہیں لاچار ہیں۔ انہیں اپنے اسمبلی حلقہ میں بھی جانے کی اجازت نہیں ہے۔ ریاست کے منگل کوٹ حلقہ سے ممبر اسمبلی مولانا صدیق اللہ چودھری نے کہا ہے کہ بیربھوم ترنمو ل کانگریس کے سربراہ انوبرتا منڈل کی وجہ سے میں اپنے حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کام کرنے سے قاصر ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پارٹی اعلی قیادت اور وزیرا علی ممتا بنرجی کو خط لکھ کر صورت حال سے آگاہ کردیا ہے ۔انو برتا منڈل بردوان ضلع کے منگل کوٹ، کیتوگرام اور آشاگرام کے بھی انچارج ہیں۔


صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ انوبرتا منڈل انکے اسمبلی حلقہ کے گاؤں میں گروپ بندی کرچکے ہیں جسکی وجہ سے صدیق اللہ چودھری کے لوگ جو ترنمول پارٹی کے کارکنان بھی ہیں انہیں گاؤں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ صدیق اللہ چودھری نے انکے ساتھ ہورہے سلوک کو ناقابل قبول بتاتے ہوئے کہا کہ وہ اب اور برداشت نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ ترنمول کانگریس سے تعلق ہونے کے باوجود میرے خلاف جھوٹے مقدمات درج کرائے گئے ہیں۔


صدیق اللہ چودھری نے جھوٹے مقدمات کی فہرست بردوان کے سپرنڈنٹ اور ضلع مجسٹریٹ کے بھیجی ہے۔صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ اگر پارٹی مجھے کام کرنے کی آزادی دے گی تو میں کام کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن میں انوبرتا منڈل کی قیادت میں کام کرنے کوتیار نہیں ہوں میں آزادانہ طور پر کام کروں گا۔واضح رہے کہ ترنمول کانگریس میں گروہ بندی سے پارٹی پریشان ہے
Published by: sana Naeem
First published: Nov 26, 2020 08:44 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading