ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال کی سیاست میں کنگ میکر بننا چاہتے ہیں پیر زادہ عباس صدیقی

کولکاتا پریس کلب میں عباس صدیقی نے" انڈین سیکولر فرنٹ" کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا غریب طبقہ ترقی سے دور ہے۔ انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن انکی ترقی کے لئے اقدامات نہیں کئے جاتے۔

  • Share this:
بنگال کی سیاست میں کنگ میکر بننا چاہتے ہیں پیر زادہ عباس صدیقی
بنگال کی سیاست میں کنگ میکر بننا چاہتے ہیں پیر زادہ عباس صدیقی

کولکاتہ۔ بنگال کے مذہبی لیڈران کے درمیان عباس صدیقی کو بھائی جان کہا جاتا ہے۔ عباس صدیقی فرفرہ شریف کے پیرزادہ ہیں۔ لوگوں کو مذہبی و سماجی طور پر آگے لانے کی کوششیں کرتے ہیں۔ 34 سالہ یہ پیرزادہ نوجوان نسل میں کافی مقبول ہیں۔ اب سیاسی میدان میں اپنی موجودگی درج کرانا چاہتے ہیں۔


اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کے فرفرہ شریف دورے اور عباس صدیقی سے ملاقات کے بعد عباس صدیقی کی سربراہی میں الیکشن لڑنے کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست کے سیاسی ماحول میں ہلچل تیز ہوچکی تھی۔ آج عباس صدیقی کے نئی سیاسی جماعت کے اعلان کے ساتھ ریاست کے ایک بڑے ووٹ بینک کے متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔


کولکاتا پریس کلب میں عباس صدیقی نے" انڈین سیکولر فرنٹ" کے نام سے نئی سیاسی جماعت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا غریب طبقہ ترقی سے دور ہے۔ انہیں ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے لیکن انکی ترقی کے لئے اقدامات نہیں کئے جاتے۔ عباس صدیقی نے نئی پارٹی کے اعلان کے ساتھ سیمول سورین کو پارٹی کا صدر بنایا جبکہ نوشاد صدیقی کو چیئرمین کے طور پر نامزد کیا ہے۔


عباس صدیقی نے کہا کہ وہ پارٹی میں کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔ وہ كنگ میکر بننا چاہتے ہیں۔ انڈین سیکولر فرنٹ کی تشکیل کے ساتھ عباس صدیقی نے کہا کہ وہ تمام سیکولر جماعتوں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بات چیت کا دروازہ ترنمول کانگریس کے لئے بھی کھلا ہے۔ بی جے پی سے مقابلے کے لئے تمام سیکولر جماعتوں کو ساتھ آنے کی ضرورت ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بنگال کی سیاست میں عباس صدیقی کی سیاسی انٹری کتنی پائیدار ثابت ہوتی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 21, 2021 07:22 PM IST