உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بنگال کے وزیر صدیق اللہ چودھری نے القاعدہ کے تعلق سے دیا بڑا بیان، NIA کے ہاتھوں گرفتار نوجوانوں کو بتایا بے قصور

    صدیق اللہ چودھری نے این آئی اے (NIA) کے ہاتھوں گرفتار نوجوانوں کو بے قصور بتایا ہے۔

    صدیق اللہ چودھری نے این آئی اے (NIA) کے ہاتھوں گرفتار نوجوانوں کو بے قصور بتایا ہے۔

    بنگال (bengal) کے مرشد آباد ضلع کو جہاں القاعدہ (Al-Qaeda) کی سرگرمیوں کا گڑھ مانا جارہا ہے وہیں بنگال حکومت میں وزیر صدیق اللہ چودھری نے اس معاملے میں ایک بڑا بیان دیا ہے۔ صدیق اللہ چودھری نے این آئی اے (NIA) کے ہاتھوں گرفتار نوجوانوں کو بے قصور بتایا ہے۔

    • Share this:
    کولکاتہ: بنگال (bengal) کے  مرشد آباد ضلع کو جہاں القاعدہ   (Al-Qaeda) کی سرگرمیوں کا گڑھ مانا جارہا ہے وہیں بنگال حکومت میں وزیر صدیق اللہ چودھری نے اس معاملے میں ایک بڑا بیان دیا ہے۔ صدیق اللہ چودھری نے این آئی اے  (NIA) کے ہاتھوں گرفتار نوجوانوں کو بے قصور بتایا ہے۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت سے اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ صدیق اللہ چودھری نے گرفتار نوجوانوں کے گھر والوں سے ملاقات کی اور گرفتار نوجوانوں کو کلین چٹ دیتے ہوئے کہا تمام لوگ بے قصور ہیں۔
    ایک ایسے وقت میں جب اس معاملے میں کوئی بھی سیاسی لیڈر بیان دینے سے گریز کرتا ہے صدیق اللہ چودھری نے گرفتار نوجوانوں کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کیا ہے۔ گزشتہ ماہ این ائی اے (NIA)  نے بنگال و کیرالہ میں القاعدہ سرگرمیوں کا انکشاف کرتے ہوئے ریاست کے مرشد آباد سے چھ  لوگوں کو القاعدہ (Al-Qaeda) سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا بعد میں مزید دو لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔

    این آئی اے  (NIA) نے جہاں اس گرفتاری کو بڑی کامیابی بتایا ہے ، وہیں سماجی تنظیموں نے آواز اٹھاتے ہوئے بنگال میں القاعدہ (Al-Qaeda) کی سرگرمیوں کے فارمولے کو ناقابل قبول بتایا ہے ۔ اب ریاستی وزیر صدیق اللہ چودھری نے بھی اس معاملے میں آگے آتے ہوئے این آئی اے کے اقدامات کو ناقابل قبول بتایا۔ صدیق اللہ چودھری نے کہا کہ ایک خاص طبقے کو خوف زدہ کرنے کے لئے بی جے پی این آئی اے کا خوف دکھا رہی ہے ۔

    انہوں نے وزیر اعلی ممتا بنرجی سے اس معاملے میں آگے آنے کی اپیل کرتے ہوئے گرفتار نوجوانوں کی مدد کی اپیل کی۔ صدیق اللہ چودھری نے مزید کہا کہ ہم گرفتار نوجوانوں کو قانونی مدد فراہم کریں گے۔
    Published by:sana Naeem
    First published: