ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بنگال کی سیاست میں قدم جمانے کے لئے کیا بی جے پی بھی مسلم ووٹروں کو بنائے گی ہمنوا؟ 

بنگال میں ووٹ بینک کی سیاست میں مسلم ووٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریاست میں 30 فیصد سے زاٸد مسلم آبادی نے جس پارٹی پر بھروسہ جتایا وہ بنگال کے اقتدار میں لمبی ریس کا گھوڑا ثابت ہوا۔ بنگال کی سابقہ لفٹ حکومت کی سیاسی تنزلی کا سبب اسی مسلم ووٹ بینک کو سمجھا جاتا ہے۔

  • Share this:
بنگال کی سیاست میں قدم جمانے کے لئے کیا بی جے پی بھی مسلم ووٹروں کو بنائے گی ہمنوا؟ 
وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی مجمع سے خطاب کرتی ہوئیں

ملک کی سیاست میں مضبوط رہنے کے لئے ضروری ہے کہ ووٹ بینک کو مضبوط رکھا جاٸے۔ جس پارٹی نے ووٹ بینک پر پکڑ جمانے میں کامیابی حاصل کی سیاست کی ریس میں وہ دیر تک ٹکا رہتا ہے۔ ملک کی دیگر ریاستوں کی طرح بنگال میں بھی سیاسی جماعتوں نے ووٹ بینک کی سیاست کے تسلسل کو برقرار رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بنگال میں لفٹ کو لمبے وقت تک اقتدار پر قابض رہنے کا موقع ملا۔  ترنمول کانگریس نے بھی اسی فارمولے کو اپنایا لیکن اب لفٹ ،کانگریس و ترنمول کانگریس کے ساتھ بی جے پی بھی اقتدار حاصل کرنے کی ریس میں مضبوط پارٹی بنکر سامنے آٸی ہے۔ 2021 میں بنگال میں ہونے والے اسمبلی الیکشن کے لئے بی جے پی نے بھی ریاست کی خاص ووٹ بینک تک پہنچنے کی کوشش شروع کی ہے۔


بنگال میں ووٹ بینک کی سیاست میں مسلم ووٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ریاست میں 30 فیصد سے زاٸد مسلم آبادی نے جس پارٹی پر بھروسہ جتایا وہ بنگال کے اقتدار میں لمبی ریس کا گھوڑا ثابت ہوا۔ بنگال کی سابقہ لفٹ حکومت کی سیاسی تنزلی کا سبب اسی مسلم ووٹ بینک کو سمجھا جاتا ہے۔ سچر کمیٹی رپورٹ میں بنگال کے مسلمانوں کو ملک میں سب سے زیادہ پسماندہ بتاٸےجانے اور انڈسٹری کے لئے زمین لئے جانے کی کوشش نے مسلمانوں کو لفٹ سے دور کیا اور ترنمول کانگریس کو مسلم ووٹروں کے قریب آنے کا موقع ملا۔ اب بی جے پی نے بھی اقتدار حاصل کرنے کے لٸے مسلم ووٹروں کے قریب جانے کا فیصلہ کیا ہے۔


بنگال بی جے پی اقلیتی مورچہ نے رواں سال  20 لاکھ مسلمانوں کو پارٹی ممبر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بنگال بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر علی حسین نے کہا کہ 4.5لاکھ بنگالی مسلمانوں نے 2014سے 2020 تک بی جے پی کی رکنیت حاصل کی ہے۔ علی حسین نے کہا کہ ریاستی صدر دلیپ گھوش نے ریاست میں  3 کروڑ بی جے پی ممبر بنانے کا ہدف رکھا ہے ان میں 20لاکھ مسلمانوں کو ممبر بنایا جائے گا اور اگلے چار مہینوں میں ہم اس ہدف کو پورا کریں گے۔ علی حسین نے کہا کہ مسلمانوں میں بی جے پی کے تعلق سے غلط فہمی پھیلائی گئی ہے مگر اب مسلم طبقہ سمجھنے لگا ہے کہ نام نہاد سیکولر جماعتوں نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ہے۔ ریاست کے 294 اسمبلی حلقوں میں 120 اسمبلی حلقے ایسے ہیں جہاں مسلم ووٹ فیصلہ کن ہے۔


بی جے پی اقلیتی مورچہ کے صدر علی حسین نے کہا کہ شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کو لیکر غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں مگر اب عوام سمجھنے لگے ہیں کہ یہ قوانین مسلمانوں کے خلاف نہیں تھے۔ علی حسین انصاری نے کہا کہ اقلیتی ارتکاز والے اضلاع میں شمالی دیناج پور، جنوبی دیناج،،کوچ بہار، ندیا، جلپائی گوڑی، مالدہ اور مرشدآباد شامل ہے۔گزشتہ چند سالوں سے اقلیتی ووٹ ترنمو ل کانگریس کی طرف یک طرفہ جارہے ہیں۔بی جے پی اب ان ہی ووٹوں پر نشانہ لگانے کی کوشش میں ہے جو 2021 کے سیاسی گھمسان میں کتنا کامیاب ہوگا یہ دیکھنا اہم ہے۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 17, 2020 05:23 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading