உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار میں BPSC کے پی ٹی ایگزام کا پیپر لیک، میچ کر گئے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے سوالات

    بہار میں BPSC کے پی ٹی ایگزام کا پیپر لیک، میچ کر گئے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے سوالات

    بہار میں BPSC کے پی ٹی ایگزام کا پیپر لیک، میچ کر گئے سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے سوالات

    BPSC PT Paper Leak: ابھی تک بی پی ایس سی کی طرف سے سوال نامہ لیک ہونے کے معاملہ میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات کا انتظار ہے ۔

    • Share this:
      پٹنہ : بڑی خبر بہار سے ہے ، جہاں بہار ایڈمنسٹریٹو سروس یعنی بی پی ایس سی امتحان کا پیپر لیک ہو گیا ہے۔ دراصل اتوار کو بہار میں بی پی ایس سی کا 67 واں کمبائنڈ پریلیمینری ایگزامنیشن (پی ٹی ایگزام) ہو رہا ہے۔ اس دوران کئی اضلاع کے امتحان مراکز سے سوال نامہ لیک ہونے کی خبریں آئی ہیں ۔ امتحان شروع ہونے سے پہلے ہی بی پی ایس سی کا سوال نامہ سوشل میڈیا کے مختلف ذرائع سے وائرل ہونے لگا۔

       

      یہ بھی پڑھئے: گیان واپی ۔ شرنگار گوری کیس میں بڑا موڑ، مندر فریق کی عرضی گزار راکھی سنگھ واپس لیں گی کیس


      امتحان ختم ہونے کے بعد جب امتحان میں موجود سوالات وائرل ہونے والے سوال نامہ سے ملایا گیا تو وائرل سوال نامہ میچ کر گیا۔ اس کے ساتھ ہی کئی جگہوں پر امیدواروں نے ہنگامہ بھی شروع کر دیا ہے۔ آرا کے کنور سنگھ کالج میں بی پی ایس سی کے طلبہ نے ہنگامہ کیا ہے ، جس کے بعد ڈی ایم-ایس پی سمیت اعلیٰ حکام جائے واقعہ پر پہنچ گئے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: جموں و کشمیر کے ارنیا سیکٹر میں نظر آیا پاکستانی ڈرون، BSF کی جوابی کارروائی، واپس لوٹا


      جانکاری کے مطابق بی پی ایس سی پی ٹی امتحان کے سی سیٹ کا سوال نامہ لیک ہو گیا ہے۔ بہار کے کئی اضلاع میں اتوار کو بی پی ایس سی کا 67 واں کمبائنڈ پریلیمینری ایگزامنیشن ہوا ۔ ریاست بھر سے تقریباً 6 لاکھ امیدوار اس امتحان میں شریک ہوئے ہیں ۔ امتحان کے لیے ریاست کے 38 اضلاع میں 1083 ایگزام سینٹرز قائم کیے گئے تھے۔ صرف دارالحکومت پٹنہ میں 83 مراکز پر 55710 امیدوار امتحان دے رہے تھے۔

      امتحان کے حوالے سے تمام مراکز پر مجسٹریٹ تعینات کیے گئے تھے۔ ابھی تک بی پی ایس سی کی طرف سے سوال نامہ لیک ہونے کے معاملہ میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی معلومات کا انتظار ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: