ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملی الامین کالج کو بڑی راحت ، اقلیتی کردار کی راہ ہموار

کلکتہ ہائی کورٹ کے ذریعہ اقلیتی کردار ختم کیے جانے کے بعد بحران کے دور سے گزررہی کلکتہ شہر میں آزادی کے بعد مسلمانوں کے ذریعہ قائم ملی الامین کالج گرلس کالج کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے بڑی راحت ملی ہے

  • UNI
  • Last Updated: Apr 19, 2018 10:40 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملی الامین کالج کو بڑی راحت ، اقلیتی کردار کی راہ ہموار
فائل فوٹو

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ کے ذریعہ اقلیتی کردار ختم کیے جانے کے بعد بحران کے دور سے گزررہی کلکتہ شہر میں آزادی کے بعد مسلمانوں کے ذریعہ قائم ملی الامین کالج گرلس کالج کو سپریم کورٹ کے ایک فیصلے سے بڑی راحت ملی ہے ۔سپریم نے اپنے تازہ فیصلے میں کہا ہے کہ’’ نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ‘‘ کوکسی بھی ادارے کو ’’اقلیتی کردار کا درجہ دینے کا حق ہے ۔

خیال رہے کہ اپریل 2016میں کلکتہ ہائی کورٹ کی یک رکنی بنچ نے’’ نیشنل کمیشن فار مائناریٹی ایجوکیشن انسٹی ٹیوٹ‘‘ کے ذریعہ دیئے گئے اقلیتی کردار کو منسوخ کردیا تھا ۔ اس کے بعد ملی الامین کالج انتظامیہ نے ڈویژن بنچ میں اس فیصلے کو چیلنج کیا تھا مگر ریاستی حکومت کے ساتھ معاہدہ ہونے کی بات توقع پر ملی الامین کالج نے کیس کو واپس لے لیا تھا۔گزشتہ دوسالوں میں حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ۔اس کی وجہ سے گزشتہ دو سالوں سے کالج میں کوئی نیا داخلہ نہیں ہورہا ہے اور اس وقت کالج میں محض تین درجن لڑکیاں زیر تعلیم ہیں ۔

جسٹس اے کے گوئل اور جسٹس آر ایف نریمن نے شمالی بنگال کے ایک کالج سے متعلق کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے جس میں کلکتہ ہائی کورٹ نے نیشنل کمیشن مائناریٹی ایجوکیشن کے ذریعہ دیئے گئے اقلیتی کردارکو غیر قانونی قرار دیدیا تھا اور کہا تھا کہ کمیشن کو اقلیتی کردار دینے کا حق نہیں ہے ۔سپریم کورٹ نے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ کمیشن کو اقلیتی کردار دینے کاپوار حق حاصل ہے ۔ملی الامین کالج انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہماری پوزیشن مضبوط ہوگئی ہے اور کالج کی مارچ 2016سے قبل والی پوزیشن بحال ہوگئی ہے ۔کالج انتظامیہ کی جانب سے کہا گیا ہے اگلی کارروائی کیلئے جلد ہی کالج انتظامیہ کی میٹنگ ہوگی ۔

First published: Apr 19, 2018 10:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading