اپنا ضلع منتخب کریں۔

    تیسرے مرحلہ میں ووٹنگ کی رفتار سست، پرامن ماحول میں دوپہر تک تقریباً 27 فیصد پولنگ

    پٹنہ۔  بہار اسمبلی کی 243 میں سے 50 سیٹوں کیلئے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ سست رفتار سے چل رہی ہے اور دوپہر تک تقریباً 27 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    پٹنہ۔ بہار اسمبلی کی 243 میں سے 50 سیٹوں کیلئے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ سست رفتار سے چل رہی ہے اور دوپہر تک تقریباً 27 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    پٹنہ۔ بہار اسمبلی کی 243 میں سے 50 سیٹوں کیلئے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ سست رفتار سے چل رہی ہے اور دوپہر تک تقریباً 27 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      پٹنہ۔  بہار اسمبلی کی 243 میں سے 50 سیٹوں کیلئے تیسرے مرحلے میں ووٹنگ سست رفتار سے چل رہی ہے اور دوپہر تک تقریباً 27 فیصد رائے دہندگان نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔


      ریاستی الیکٹورل دفتر کے ذرائع نے یہاں بتایا کہ پولنگ پرامن طور پر جاری ہے اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ہے۔ دوپہر 12 بجے تک سب سے کم 23.05 فیصد ووٹنگ پٹنہ ضلع میں ہوئی جبکہ سب سے زیادہ 30.53 فیصد ووٹنگ ویشالی میں ہوئی ہے۔ اسی طرح پہلے پانچ گھنٹوں میں بکسر میں 30.05، سارن میں 28.45، نالندہ میں 27.39 اور بھوجپور میں 27.06 فیصد ووٹروں نے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
      ذرائع کے مطابق ضلع سارن کے پرسا اسمبلی حلقے کے ووٹنگ مرکز نمبر 167 پر کوٹھیا گاؤں کےلوگوں نے ’بجلی نہیں تو ووٹ نہیں‘ کےنعرے کے ساتھ پولنگ کا بائیکاٹ کیا ہے۔ تاہم انتظامیہ کے حکام رائے دہندگان کو سمجھا بجھا کر پولنگ کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔


      پولیس اور رائے دہندگان کے درمیان جھڑپ سے ووٹنگ میں رکاوٹ


      دریں اثنا،  تیسرے مرحلے کی پولنگ کے دوران آج بکسر اسمبلی حلقہ کے دو پولنگ مراکز پر پولیس اور ووٹروں کے درمیان ہوئی جھڑپ کے بعد ووٹنگ میں رکاوٹ پیدا ہو گئی۔


      پولیس ذرائع نے یہاں بتایا کہ بکسر ضلع کے صنعتی تھانہ کے جگدیش پور گاؤں کی بازار سمیتی احاطے واقع پولنگ مرکز نمبر 168 اور 169 پر ووٹر قطار میں کھڑے تھے تبھی پولیس اور ووٹروں کے درمیان اچانک جھڑپ ہو گئی۔ جھڑپ کی وجہ سے ان دونوں مراکز پر تقریبا 10 منٹ تک ووٹنگ میں رکاوٹ پیش آئی۔ ذرائع نے بتایا کہ بعد میں پولیس اور انتظامیہ کے حکام کی مداخلت کے بعد ان مراکز پر پولنگ شروع ہو سکی۔ اب یہاں پولنگ پرامن طور پر جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس علاقے سے 29 امیدوار انتخابی میدان میں ہیں۔


      لالو نے اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ ووٹ دیا


       راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے سربراہ لالو پرساد یادو نے آج اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ ووٹ دیا۔ مسٹر یادو صبح تقریباً نو بجے اہلیہ رابڑی دیوی اور بڑی بیٹی میسا بھارتی کے ساتھ دیگھا اسمبلی حلقہ کے ویٹنری کالج میں واقع پولنگ مرکز نمبر 150 پر ووٹنگ کی۔ اس سے تقریباً ایک گھنٹے پہلےہی مسٹر یادو کے چھوٹے بیٹے تیجسوی یادو نے بھی اسی پولنگ مرکز پر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا تھا۔


      آر جے ڈی سربراہ کے بیٹے تیج پرتاپ یادو مہوا اور تیجسوی یادو راگھو پور اسمبلی حلقے سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ ان دونوں کے حلقوں میں بھی آج ہی ووٹنگ ہو رہی ہے۔ ووٹنگ کے بعد آر جے ڈی سربراہ مسٹر یادو نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کہا کہ اس بار کے الیکشن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی شکست یقینی ہے اور اسی شکست کے پیش نظر وزیر اعظم نریندر مودی گھبرا کر ذات پات کی سیاست پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ بنیاد پر ووٹ حاصل کرنے کیلئے وزیراعظم جھوٹ پھیلا رہے ہیں کہ دلتوں، پسماندوں اور انتہائی پسماندوں کا ریزرویشن چھین کر مسلمانوں کو دینے کی سازش ہو رہی ہے۔


      بختیارپور میں ووٹ ڈال کر باہر آئے نتیش کے خلاف نعرے بازی


      دوسری طرف، پٹنہ ضلع کے بختیار پور اسمبلی حلقہ میں مقامی لوگوں کے مسائل کو توجہ نہیں دینے سے ناراض نوجوانوں نے آج بہار کے وزیر اعلی نتیش کمار کے خلاف نعرے بازی کی۔


      مسٹر کمار بختیار پورکی پولنگ مرکز نمبر 203 پر ووٹ ڈالنے کے بعد جب باہر آئے تو مقامی لوگوں نے صحت کی سہولیات کی کمی کی وجہ سے ایک لڑکی کی ہوئی موت کے سلسلے میں اپنی بات رکھنے کی کوشش کی ، جس پروزیر اعلی نے توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے مقامی لوگ ناراض ہو گئے اور ان کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے۔


      اس سے قبل مسٹر کمار نے صحافیوں سے بات چیت کے دوران ووٹروں سے بڑھ چڑھ کر ووٹ دینے کی اپیل کی۔ انہوں نے سیاست سے متعلق صحافیوں کے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد مسٹر کمار انتخابی مہم کے لئے نکل گئے۔ شاید اسی وجہ سے وزیر اعلی جلدی میں نظر آ رہے تھے۔


      سر سے جڑی ہوئی صبا اور فرحا نے ایک ہی انتخابی شناختی کارڈ سے ووٹ دیا


      وہیں، بہار میں ضلع پٹنہ کے دیگھہ اسمبلی حلقہ کے ایک پولنگ بوتھ پر سر سے جُڑی ہوئی دو بہنوں صبا اور فرحا نے پہلی بار ووٹ دیا۔ ذرائع نے بتایا کہ انہوں نے ایک ہی انتخابی شناختی کارڈ کے ذریعہ پہلی بار اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ دونوں بہن دیگھہ اسمبلی حلقہ کے سمن پورہ میں واقع مدرسہ اسلامیہ کے پولنگ مرکز نمبر 89 پر اپنے ووٹ دیا۔


      واضح رہے کہ بہار اسمبلی الیکشن کے تیسرے مرحلہ کے لئے آج پٹنہ سمیت چھ اضلاع میں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔


      First published: