ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی الیکشن 2020 سے قبل اردو آبادی نتیش کمار سے ناراض ، انتخابات پر پڑ سکتا ہے اثر

آل بہار اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اردو کا مسئلہ جلد حل نہیں ہوگا تو حکومت نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار رہے ۔ ایسوسی ایشن نے ریاست گیر سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔

  • Share this:
بہار اسمبلی الیکشن 2020 سے قبل اردو آبادی نتیش کمار سے ناراض ، انتخابات پر پڑ سکتا ہے اثر
بہار اسمبلی الیکشن 2020 سے قبل اردو آبادی نتیش کمار سے ناراض ، انتخابات پر پڑ سکتا ہے اثر

بہار کی اردو آبادی حکومت سے ناراض ہوگئی ہے ۔ بھلے ہی جےڈی یو کے مسلم لیڈران مسلم ووٹوں کو اپنی جھولی میں کرنے قواعد پر کام کررہے ہیں اور نتیش کمار کی کارکردگی کو ورچوئل کانفرنس کے ذریعہ مسلمانوں کو بتانے کی کوشش میں لگے ہیں ، لیکن ریاست کی اردو آبادی کی ناراضگی نے حکومت کے سامنے ایک بڑی مصیبت کھڑی کردی ہے۔ آل بہار اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اردو کا مسئلہ جلد حل نہیں ہوگا تو حکومت نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار رہے ۔ ایسوسی ایشن نے ریاست گیر سطح پر تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ایسوسی ایشن کے مطابق صوبہ کے مختلف ضلع کے ہیڈکواٹر پر محبان اردو کا احتجاج جاری ہے ۔ دستخطی مہم کے تحت بھی اردو کے مسئلہ پر حکومت کو غور کرنے کی اپیل کی جارہی ہے ۔


اردو کے معاملہ پر محبان اردو کیوں ناراض ہیں ، اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ دراصل محکمہ تعلیم نے اسکولوں کے نصاب سے اردو کی لازمیت ختم کردی ہے اب اردو اختیاری مضمون کا حصہ ہوگا ۔ وہیں اردو ٹیچروں کی بحالی میں چالیس طلبہ کی قید لگائی گئی ہے۔ یعنی جن اسکولوں میں چالیس طلبہ ہوں گے اردو کا ٹیچر اب اسی اسکول میں بحال ہوگا ۔ اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن محکمہ تعلیم کے نوٹیفکینش کو اردو کے ساتھ سازش بتاتا ہے ۔ آل بہار اردو ٹیچرس ایسوسی ایشن کے ریاستی صدر ڈاکٹر عقیل احمد کے مطابق حکومت کی دوہری پالیسی کے سبب اردو کو جڑ سے مٹانے کی کوشش کی جارہی ہے ، جس کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جائےگا ۔


محکمہ تعلیم نے اسکولوں کے نصاب سے اردو کی لازمیت ختم کردی ہے اب اردو اختیاری مضمون کا حصہ ہوگا ۔
محکمہ تعلیم نے اسکولوں کے نصاب سے اردو کی لازمیت ختم کردی ہے اب اردو اختیاری مضمون کا حصہ ہوگا ۔


ادھر امارت شرعیہ بہار کے جنرل سکریٹری مولانا شبلی قاسمی نے کہا کہ اردو کے معاملہ پر حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے ۔ امارت کے مطابق اس معاملہ میں جلد ہی ایک وفد وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرے گا ۔ جمیعت علما بہار ، جمیعت اہل حدیث اور مجلس مشاورت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے نصاب سے اردو کو لازمی مضمون کی حیثیت سے ہٹانا اردو کے ساتھ مذاق ہے ۔ بزم صدف انٹرنیشنل کے ڈائرکٹر پروفیسر صفدر امام قادری کے مطابق اسکولوں میں دوسرے مضامین کے ٹیچروں کی بحالی کے لئے طلبہ کی تعداد کا کوئی شرط نہیں ہے تو پھر اردو کے ٹیچر کی بحالی کے لئے حکومت نے چالیس طلبہ کی شرط کیوں لگائی ہے۔ صفدر قادری کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تعداد کی شرط اردو کے ساتھ نا انصافی ہے۔

واضح رہے کہ اردو کے معاملہ میں محبان اردو کا احتجاج حکومت کو بھاری پڑ سکتا ہے۔ ایک طرف جے ڈی یو کے لیڈر نتیش کمار کو اقلیتوں کا مسیحا بتا رہے ہیں تو وہیں دوسری طرف اردو کے مسئلہ پر صوبہ میں سخت احتجاج شروع ہوگیا ہے ۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت وقت رہتے اس مسئلہ کو حل نہیں کرتی ہے ، تو آئندہ اسمبلی کے انتخابات میں حکومت کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Sep 20, 2020 08:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading