ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات میں اپنی جیت کا جھنڈا گاڑنے کی اسدالدین اویسی کی پارٹی کا الائنس یوڈی ایس اے بنارہا ہے حکمت عملی

خاص بات یہ ہے کہ اس بار کے انتخاب میں اپنے دم پر کوئی پارٹی انتخابی میدان میں اترنے کے بجائے الائنس بناکر انتخابی میدان میں آنے کو ترجیح دے رہی ہے۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات میں اپنی جیت کا جھنڈا گاڑنے کی اسدالدین اویسی کی پارٹی کا الائنس یوڈی ایس اے بنارہا ہے حکمت عملی
بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد اب بہار کی سیاسی گہما گہمی اپنے شباب پر

بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہونے کے بعد اب بہار کی سیاسی گہما گہمی اپنے شباب پر پہنچ گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس بار کے انتخاب میں اپنے دم پر کوئی پارٹی انتخابی میدان میں اترنے کے بجائے الائنس بناکر انتخابی میدان میں آنے کو ترجیح دے رہی ہے۔ پہلے سے صوبہ میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے نام سے الائنس موجود ہے اب اسدالدین اویسی کی پارٹی کا یوڈی ایس اے اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا و اشفاق رحمان کا یوڈی اے بنا ہے۔ ان چاروں الائنس میں صوبہ کی درجنوں سیاسی پارٹیاں شامل ہے۔ بہار میں ذات پات کی سیاست ہمیشہ سے ہاوی رہی ہے اس بار بھی ذاتوں کی گولبندی کا بازار گرم ہے۔


نتیش کمار اپنے کام کو دیکھا کر ووٹ لینے کی بات کررہے ہیں تو بی جے پی، این ڈی اے کی بہتر حکومت کو مثال بناکر لوگوں کے سامنے رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے وہیں اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نوجوانوں کے مسلہ، سیلاب، بےروزگاری جیسے معاملہ پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش میں جٹے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہیکہ این ڈی اے اور عظیم اتحاد میں پندرہ سال بنام پندرہ سال کی سیاست شباب پر ہے۔ این ڈی اے اور عظیم اتحاد نے ذاتوں کی گولبندی شروع کر سیاسی بساط پر اپنی جیت کا داؤ لگایا ہے۔ ادھر چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا اتحاد بہار کی سیاست میں رنگ دیکھانا شروع کر دیا ہے۔


اسدالدین اویسی کی پارٹٰی ایم آئ ایم کا یونایٹیڈ ڈیموکریٹک سیکولر الائنس نے آج ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کر ایک سو پچاس سیٹوں پر انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ وہیں سولہ پارٹیوں پر مشتمل یونائٹیڈ ڈیموکریٹک الائنس اپنی جیت کا دعویٰ ٹھوک رہی ہے۔ اسدالدین اویسی کی پارٹی کی انٹری سے بہار کی کئ سیاسی پارٹیوں کی نیند اڑی ہوئی ہے۔

مسلمانوں کے ووٹوں کی تقسیم کے خوف سے وہ ایم آئ ایم کو ووٹ کاٹنے والی پارٹی بتا رہے ہیں وہیں یوڈی اے کا کہنا ہیکہ اس بار پندرہ سال بنام پندرہ سال کی سیاست کو لوگ درکنار کر نئے متبادل کو موقع فراہم کرایں گے۔ ایم آئی ایم سیمانچل سمیت تمام اقلیتی حلقوں پر اپنا امیدوار کھڑا کرےگی۔ پارٹی مسلمان، دلت، یادو، غریب، پیچھڑے، بےروزگار، نوجوانوں کی بات کہ رہی ہے۔ یوڈی ایس اے کا دعویٰ ہیکہ سماج کے آخری پائدان پر کھڑے لوگوں کو جزبات میں ووٹ کرنے کے بجائے اپنے بنیادی مسلہ پر امیدواروں کا انتخاب کرنا چاہئے۔ یوڈی ایس اے کے کنوینر دویندر پرساد یادو کے مطابق بہار میں بدلاؤ کی ضرورت ہے اس کے لئے لوگوں کو موجودہ سیاسی منظرنامہ بدلنا ہوگا۔
Published by: sana Naeem
First published: Sep 26, 2020 06:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading