ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں کانگریس پارٹی کی منزل ابھی دور، مسلم مخالف ہونے کا لگا الزام

اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس آرجےڈی کے ساتھ عظیم اتحاد کا حصہ ہے لیکن کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں نے اپنی ہی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کی پالیسی مسلم مخالف ہے۔ دراصل پارٹی کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والے مسلم لیڈروں کو ٹکٹ کی تقسیم میں حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔

  • Share this:
بہار میں کانگریس پارٹی کی منزل ابھی دور، مسلم مخالف ہونے کا لگا الزام
بہار میں کانگریس پارٹی کی منزل ابھی دور، مسلم مخالف ہونے کا لگا الزام

پٹنہ۔ کبھی بہار کے تمام اسمبلی حلقوں پر لگاتار اپنی جیت کا جھنڈا گاڑنے والی کانگریس پارٹی آج بیساکھیوں کے سہارے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ کانگریس پارٹی کی یہ حالت ایسے ہی نہیں ہوئی ہے۔ بھاگلپور فرقہ وارانہ فساد کے بعد کانگریس پارٹی کا بہار میں زوال شروع ہوا اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مسلم یادو کا اتحاد بناکر سیاسی گولبندی کرنے والے لالو پرساد کا عروج ہوا۔ 1990 کے بعد کانگریس کا وہ دن واپس نہیں لوٹا جو کبھی ہوا کرتا تھا۔ کانگریس پارٹی اپنے دم پر انتخابی میدان میں آئی لیکن ریزلٹ افسوسناک رہا۔ نتیجہ کے طور پر کانگریس پارٹی نے آرجےڈی کا ہاتھ تھام لیا اور آرجےڈی سے اتحاد بناکر اسمبلی انتخابات میں قسمت آزماتی رہی۔


اس بار کے اسمبلی انتخابات میں بھی کانگریس آرجےڈی کے ساتھ عظیم اتحاد کا حصہ ہے لیکن کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں نے اپنی ہی پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی کی پالیسی مسلم مخالف ہے۔ دراصل پارٹی کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کرنے والے مسلم لیڈروں کو ٹکٹ کی تقسیم میں حاشیہ پر رکھا گیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں نے اپنی ہی پارٹی پر بڑا سوال کھڑا کیا ہے۔ ایک طرف بہار کی سیاست میں کانگریس پارٹی اپنا وقار بحال کرنے کی جدوجہد میں لگی ہے وہیں دوسری طرف کانگریس پارٹی کے لیڈروں نے پارٹی کی پالیسی کو مسلم مخالف قرار دیا ہے۔


کانگریس پارٹی کے ترجمان اعظمی باری کا کہنا ہیکہ اپنی پوری زندگی پارٹی کے لئے وقف کرنے کے بعد بھی ٹکٹ کی تقسیم میں مسلم لیڈروں کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ اعظمی باری نے کہا کہ دہلی میں بیٹھے لوگ بہار کے زمینی حقائق سے ناواقف ہیں۔ وہیں کانگریس لیڈر مشرف علی کا کہنا ہیکہ اپنی ہی پارٹی کے منفی کردار کو واضح کرنا مناسب نہیں لگتا ہے لیکن یہ سچ ہیکہ ٹکٹ کی تقسیم میں پیسوں کا بڑا کھیل ہوا ہے۔


مشرف علی کے مطابق پارٹی کے اعلی کمان کی جانب سے صوبہ کی مسلم لیڈرشپ کو پوری طرح سے نظرانداز کیا گیا ہے۔ مشرف علی کا کہنا ہیکہ انتخابات میں کانگریس پارٹی کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا تین تین دہائیوں سے پارٹی کے لئے پوری طرح سے وقف سیاسی لیڈروں کو نظرانداز کرنے سے کانگریس پارٹی کا پرانا دن واپس لوٹے گا۔ ظاہر ہے دہلی میں بیٹھے پارٹی کی قیادت کو اس پر غور کرنا چاہئے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 13, 2020 08:38 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading