ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

اب تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر تیسرے مرحلے کے الیکشن پر، 78 اسمبلی حلقوں میں 7 نومبر کو ڈالے جائیں گے ووٹ

خاص بات یہ ہیکہ تیسرے مرحلے میں سیمانچل، میتھلانچل اور چمپارن کے اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ اقلیتی اکثریتی علاقہ ہے۔ درجنوں اسمبلی حلقوں میں اقلیتی آبادی ہی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔

  • Share this:
اب تمام سیاسی پارٹیوں کی نظر تیسرے مرحلے کے الیکشن پر، 78 اسمبلی حلقوں میں 7 نومبر کو ڈالے جائیں گے ووٹ
بہار الیکشن

پٹنہ۔ بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر دوسرے مرحلے میں کل یعنی تین نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں 17 ضلعوں کے 94 اسمبلی حلقوں پر ووٹ ڈالے جائیں گے جس میں کئی سیاسی قدآوروں کی قسمت داؤ پر لگی ہے۔ دوسرے مرحلے میں ایک ہزار چار سو 63 امیدوار میدان میں ہیں۔ تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں۔ اب سیاسی پارٹیوں کی نظر تیسرے مرحلے کے انتخاب پر ٹکی ہے۔


خاص بات یہ ہیکہ تیسرے مرحلے میں سیمانچل، میتھلانچل اور چمپارن کے اسمبلی حلقے شامل ہیں۔ یہ علاقہ اقلیتی اکثریتی علاقہ ہے۔ درجنوں اسمبلی حلقوں میں اقلیتی آبادی ہی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے۔ سیمانچل میں ایم آئی ایم کی موجودگی سیمانچل کی سیاست کو ایک نیا موڑ دے رہی ہے۔ ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی نے سیمانچل میں اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔


جانکاروں کے مطابق سیمانچل کی سیاست میں آیم آئی ایم کی موجودگی سے مسلمانوں پر سیاست کرنے والی پارٹیاں پریشان ہیں۔ انہیں اندیشہ ہیکہ مسلمانوں کے ووٹوں کی اگر تقسیم ہو گی تو سیاسی حالات سازگار نہیں ہونگے۔ جےڈی یو کے مسلم لیڈر ابھی سیمانچل میں قیام کر رہے ہیں۔ وہیں آرجےڈی بھی مسلم حلقوں میں اپنی جیت کا جھنڈا گاڑنے کی کوشش میں مصروف ہے۔


آرجےڈی ترجمان انور حسین کا کہنا ہیکہ ان کی پارٹی کے لئے سیمانچل ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوتا رہا ہے۔ اس بار بھی لوگ آرجےڈی پر بھروسہ کریں گے جبکہ جےڈی یو کا کہنا ہیکہ سیمانچل کے ساتھ ساتھ میتھلانچل کے مسلمان جےڈی یو اور نتیش کمار کے کاموں پر بھروسہ کر رہے ہیں۔ سب کے اپنے اپنے دعوے اور نعرے ہیں۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ عوام کا کیا فیصلہ 10 نومبر کو نکل کر سامنے آتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 02, 2020 04:29 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading