ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخاب میں مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں پر تمام سیاسی پارٹیوں کی ہے نظر

بہار اسمبلی انتخابات میں الائنس کی بھرمار ہے۔ ووٹروں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کس پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ کریں ۔ وہ اس لئے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کی زبان پر فی الحال ترقی کا مدعا چھایا ہوا ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر اسمبلی حلقوں میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے درمیان مقابلہ ہونا تقریبا طے مانا جارہا ہے۔

  • Share this:
بہار کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے انتخاب میں مسلم اکثریتی اسمبلی حلقوں پر تمام سیاسی پارٹیوں کی ہے نظر
بہار اسمبلی انتخابات

بہار اسمبلی انتخابات میں الائنس کی بھرمار ہے۔ ووٹروں کو سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ وہ کس پارٹی کے امیدواروں کو ووٹ کریں ۔ وہ اس لئے کہ تمام سیاسی پارٹیوں کی زبان پر فی الحال ترقی کا مدعا چھایا ہوا ہے لیکن یہ بات بھی سچ ہے کہ زیادہ تر اسمبلی حلقوں میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے درمیان مقابلہ ہونا تقریبا طے مانا جارہا ہے۔ اقلیتوں کے حوالے سے دیکھیں تو آر جے ڈی نے 17 مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے۔


کانگریس بارہ اور لیفٹ پارٹی کی طرف سے دو مسلم امیدوار ہیإ ۔ یعنی عظیم اتحاد میں 31 مسلم امیدوار انتخابی میدان میں قسمت آزما رہے ہیں جبکہ این ڈی اے میں گیارہ مسلم امیدوار ہیں اور وہ گیارہ امیدوار جے ڈی یو کے ہیں۔ یعنی جے ڈی یو نے گیارہ مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے جبکہ این ڈی اے میں شامل جیتن رام مانجھی کی پارٹی، مکیش سہنی کی پارٹی اور بی جے پی نے ایک بھی مسلم امیدوار کو ٹکٹ نہیں دیا ہے۔ اب بہار کی سترہ فیصدی مسلم ووٹر اپنی نمائندگی کے سوال پر پارٹیوں کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔



دوسرے اور تیسرے مرحلے میں سیمانچل، میتھلانچل، چمپارن کے علاقوں میں ووٹ ڈالا جائے گا۔ دیکھنا دلچسپ ہو گا کہ مسلم سماج کن مدعوں پر سیاسی پارٹیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔ جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں کی کوشش رنگ لاتی ہے یا نتیش کمار کی ترقی کا نعرہ یا پھر تیجسوی پرساد یادو کی حکمت عملی۔ لیکن یہ صاف ہے کہ مسلمان، دلت اور اعلی ذات کا طبقہ انتخابات کو لیکر کافی غور و خوض کرنے میں لگا ہے۔



وہیں بہار کی تشہری مہم میں وزیراعظم نریندر مودی کی انٹری ہونے جارہی ہے ۔ وزیراعظم بہار میں مختلف اسمبلی حلقوں میں بارہ ریلی کرینگے۔ دیویندر فڑنویس نے میڈیا کویہ جانکاری دی کہ تیئیس اکتوبر کو وزیراعظم نریندر مودی ساسارام ، بھاگلپور اور گیا میں ریلی کرینگے۔ اٹھائیس اکتوبر کو وہ دربھنگہ،مظفرپور اور پٹنہ میں عوامی اجلاس سے خطاب کرینگے۔ایک نومبر کو وزیراعظم نریندر مودی چھپرا، مشرقی چمپارن اور سمستی پور میں ریلی کرینگے۔ جبکہ تین نومبر کو مغربی چمپارن،سہرسہ اور ارریہ میں نریندرمودی این ڈی اے کے اُمیدواروں کے حق میں ووٹ مانگیں گے۔
Published by: sana Naeem
First published: Oct 17, 2020 08:49 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading