ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے بڑی پارٹیاں پریشان، ستا رہا ہے ووٹ کی تقسیم کا خوف

بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر صوبہ میں سیاست کا بازار گرم ہے۔ صوبہ میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے درمیان سیدھا مقابلہ ہونا طے ہے لیکن درجنوں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں نے اپنا اپنا اتحاد بنا کر این ڈی اے اور عظیم اتحاد کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔

  • Share this:
بہار میں چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے بڑی پارٹیاں پریشان، ستا رہا ہے ووٹ کی تقسیم کا خوف
بہار میں چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے بڑی پارٹیاں پریشان، ستا رہا ہے ووٹ کی تقسیم کا خوف

پٹنہ۔ بہار اسمبلی انتخابات کو لیکر صوبہ میں سیاست کا بازار گرم ہے۔ صوبہ میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد کے درمیان سیدھا مقابلہ ہونا طے ہے لیکن درجنوں چھوٹی چھوٹی پارٹیوں نے اپنا اپنا اتحاد بنا کر این ڈی اے اور عظیم اتحاد کو چیلنج کرنا شروع کردیا ہے۔ ایم آئی ایم نے یونائٹیڈ ڈیموکریٹک سیکولر الائنس بنایا ہے۔ وہیں سولہ پارٹیوں پر مشتمل یونائٹیڈ ڈیموکریٹک الائنس یعنی یو ڈی اے کے نام سے بنا الائنس پورے بہار میں لگاتار دورہ کررہا ہے۔ یو ڈی اے میں کئی بڑے لیڈر شامل ہیں۔


یو ڈی اے میں شامل جنتادل راشٹر وادی کے کنوینر اشفاق رحمان کے مطابق اس بار کے انتخاب میں چھوٹی پارٹیوں کا اتحاد بہار کے مقدر کا فیصلہ کرے گا۔ چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد سے صوبہ کی بڑی پارٹیوں کے لیڈر پریشان ہونے لگے ہیں۔ دراصل بہار کے اسمبلی حلقوں میں جیت ہار کے فیصلے میں ووٹوں کا فرق کافی کم ہوتا ہے۔ بڑی پارٹیوں کو خوف اس بات کا ہے کہ اگر ووٹوں کی تقسیم ہوئی تو سیاسی بساط پر بنا داؤ کہیں نقصان نہ پہنچا دے۔ نتیجہ کے طور پر آرجےڈی نے چھوٹی پارٹیوں کے اتحاد کو ووٹ کاٹنے سے تعبیر کیا ہے۔


آر جےڈی ترجمان مرتنجئے تیواری کے مطابق چھوٹی پارٹیوں کا الائنس ووٹ کاٹنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ مرتنجئے تیواری نے این ڈی اے پر بھی حملہ کیا ہے۔ مرتنجئے تیواری کا دعویٰ ہیکہ تیجسوی یادو کی آندھی میں این ڈی اے کا قلعہ گر جائےگا وہیں این ڈی اے نتیش کمار کے چہرے اور کام پر یقین کررہا ہے۔ جےڈی یو ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کے مطابق نتیش کمار نے بہار کو ترقی کا ذائقہ چکھایا ہے۔ اب بہار کے لوگ ترقیاتی مدعوں پر ووٹ کریں گے جبکہ اپوزیشن ذات پات کی سیاست میں لگا ہے۔


مولانا بلیاوی نے کہا کہ نتیش کمار کے سامنے چھوٹی پارٹیوں کا اتحاد تو دور کی بات ہے اپوزیشن بھی کہیں نہیں ہے۔ ادھر سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کا اتحاد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ انتخابات پر بہت اثر نہیں پڑے گا لیکن چھوٹی پارٹیوں کے لیڈر اپنے اپنے علاقہ میں کافی اثر رکھتے ہیں اور بات ووٹ کی ہوگی تو یقینی طور سے کہا جاسکتا ہیکہ ووٹوں کی تقسیم ہو گی اور اس تقسیم میں این ڈی اے اور عظیم اتحاد کو بھی نقصان ہوگا۔ یہ کہنا بالکل درست ہے۔ خاص طور سے آرجےڈی کو لگتا ہیکہ یونائٹیڈ ڈیموکریٹک سیکولر الائنس کے نام سے بنا ایم آئی ایم کا اتحاد سیمانچل کے اسمبلی سیٹوں کا تانا بانا بگاڑ سکتا ہے۔ وہیں سولہ پارٹیوں پر مشتمل یونائٹیڈ ڈیموکریٹک الائنس بھی ووٹوں کے بکھراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 21, 2020 07:42 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading