ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

کشن گنج کے چاروں اسمبلی حلقوں پر مقابلہ دلچسپ، ایم آئی ایم کی موجودگی جےڈی یو اور کانگریس کے امیدوار کو کر رہی ہے پریشان

کشن گنج میں مسلم ووٹر فیصلہ کن تعداد میں ہیں اور عام طور پر تمام سیاسی پارٹیاں اپنے مسلم امیدواروں کو سیمانچل کے ان ہی علاقوں سے امیدوار بناتی ہیں۔

  • Share this:
کشن گنج کے چاروں اسمبلی حلقوں پر مقابلہ دلچسپ، ایم آئی ایم کی موجودگی جےڈی یو اور کانگریس کے امیدوار کو کر رہی ہے پریشان
ایم آئی ایم کی موجودگی جےڈی یو اور کانگریس کے امیدوار کو کر رہی ہے پریشان

کشن گنج ضلع کے چاروں اسمبلی حلقوں پر سیاسی پارٹیوں کا وقار داؤ پر لگا ہے۔ ایم آئی ایم کے سبب خاص طور سے جےڈی یو اور کانگریس پارٹی کی مشکل بڑھ گئی ہے۔ دراصل کشن گنج میں چار اسمبلی حلقے ہیں۔ کشن گنج، کوچادھامن، ٹھاکر گنج اور بہادر گنج۔ کشن گنج سیٹ پر ایم آئی ایم کا قبضہ ہے۔ ضمنی انتخاب میں ایم آئی ایم کے امیدوار نے کشن گنج سے جیت حاصل کی تھی۔ کوچادھامن اور ٹھاکر گنج اسمبلی حلقہ جےڈی یو کے پاس ہے اور جےڈی یو کے سیٹنگ ایم ایل اے اس بار بھی انتخابی میدان میں ہیں۔ کوچادھامن میں جےڈی یو کے مجاہد عالم اور ٹھاکر گنج میں نوشاد عالم نے اپنی پوری طاقت جھونک دی ہے۔ جبکہ بہادر گنج سیٹ کانگریس پارٹی کے پاس ہے اور بہادر گنج کے ایم ایل اے توصیف عالم پھر سے انتخابی میدان میں ہیں۔ اب سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کشن گنج سیٹ کیوں سبھی پارٹیوں کی توجہ کا مرکز بنی ہے۔


کشن گنج میں مسلم ووٹر فیصلہ کن تعداد میں ہیں اور عام طور پر تمام سیاسی پارٹیاں اپنے مسلم امیدواروں کو سیمانچل کے ان ہی علاقوں سے امیدوار بناتی ہیں۔ اس بار کے اسمبلی انتخابات میں کشن گنج کے چاروں اسمبلی حلقوں کا سیاسی منظرنامہ کچھ اس طرح سے ہے۔ کشن گنج سے ایم آئی ایم کے سیٹنگ ایم ایل اے قمرالہدیٰ، بی جے پی کی سویٹی سنگ اور کانگریس کے امیدوار اظہار الحق کے درمیان مقابلہ ہے۔ جانکاروں کے مطابق اگر ایم آئی ایم اور کانگریس پارٹی کے بیچ مسلم ووٹوں کی تقسیم ہوئی تو اس بار یہ سیٹ بی جے پی کے کھاتے میں آسانی سے چلی جائے گی۔ سویٹی سنگ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں دوسرے نمبر پر رہی تھی اور کانگریس کے امیدوار نے یہاں سے جیت حاصل کی تھی۔ کانگریس ایم ایل اے لوک سبھا کے انتخاب میں ایم پی بن گئے پھر کشن گنج مں ضمنی انتخاب ہوا جس میں یہ سیٹ ایم آئی ایم کے حصہ میں آئی۔


ایم آئی ایم اپنی سیٹ کو برقرار رکھنے کی پوری شدت سے کوشش میں لگی ہے۔ بہادر گنج اسمبلی حلقہ کانگریس پارٹی کا رہا ہے۔ ایم آئی ایم نے بہادر گنج میں بھی اپنا امیدوار اتار کر مقابلہ دلچسپ بنادیا ہے۔ ایم آئی ایم کے امیدوار کے سبب کانگریس پارٹی کو بھاری مشکل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ادھر اس علاقہ پر این ڈی اے کے وی آی پی پارٹی کے امیدوار میدان میں ہیں۔ این ڈی اے خاموشی سے کانگریس اور ایم آئی ایم کی ٹکر دیکھ رہی ہے اور مسلم ووٹوں کی تقسیم سے اپنی جیت کا لائحہ عمل مرتب کررہی ہے۔ کوچادھامن اسمبلی حلقہ پر جےڈی یو کا قبضہ ہے لیکن یہ سیٹ آرجےڈی کی رہی ہے۔ آرجےڈی اس سیٹ کو دوبارہ حاصل کرنے کے سلسلے میں اپنی طاقت جھونک دی ہے۔


کوچادھامن سے آرجےڈی کے شمیم، جےڈی یو ایم ایل اے مجاہد عالم میں سیدھا مقابلہ طے مانا جارہا ہے۔ ادھر ایم آئی ایم کے اظہار آصفی بھی اپنی زمین تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ٹھاکر گنج اسمبلی حلقہ کافی اہم ہے۔ جےڈی یو کے نوشاد عالم یہاں سے ایم ایل اے ہیں۔ نوشاد عالم اقلیتی فلاح کے وزیر بھی رہ چکے ہیں۔ کئی بار ٹھاکر گنج کی نمائندگی کرنے کے بعد ایک بار پھر سے انتخابی میدان میں ہیں لیکن اس بار نوشاد عالم کے سامنے چیلنج کھڑا ہے۔ ٹھاکر گنج میں ایم آئی ایم کےحافظ محبوب اور آرجےڈی کے مولانا سعود سے نوشاد عالم کا مقابلہ ہے۔ اس سیٹ پر آرجےڈی اور جےڈی یو کے بیچ گھمسان ہونا لگ بھگ طے مانا جارہا ہے۔

سیمانچل کے اس علاقہ میں بڑا مدعا کسان، کھیتی، مائگریشن، چائے کی کھیتی، بےروزگاری، مزدوروں کے مسئلہ سمیت غربت اور تعلیم ایک اہم مدعا ہے۔ کشن گنج میں اے ایم یو کی برانچ قائم کرنے کے لئے زمین دی گئی ہے لیکن کسی حکومت کی جانب سے اے ایم یو کو بنانے کے لئے کسی طرح کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ اس بار کے انتخاب میں یہ بھی یہاں کا مدعا ہے۔ ساتھ ساتھ سیلاب اور سیلاب متاثرین کی پریشانی کو بھی انتخابی مدعا بناکر تمام سیاسی پارٹیاں اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش میں لگی ہیں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 05, 2020 09:22 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading