ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات : مسلم ووٹروں کو رجھانے کی قواعد تیز، اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں میں مچی ہوڑ

Bihar Assembly Elections 2020 : اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے مسلم لیڈروں نے مسلم ووٹوں کو اپنی اپنی جھولی میں کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اسمبلی کے دو سو 43 حلقوں میں تقریبا سو حلقوں میں مسلمانوں کی اچھی آبادی ہے اور اس میں ساٹھ ایسے حلقے ہیں ، جہاں مسلم آبادی ہی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے ۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات : مسلم ووٹروں کو رجھانے کی قواعد تیز، اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی کے مسلم لیڈروں میں مچی ہوڑ
بہار : مسلم ووٹروں کو رجھانے کی قواعد تیز، اپوزیشن اور برسراقتدار پارٹی میں مچی ہوڑ

بہار میں دلتوں کی مجموعی آبادی تقریبا 16 فیصدی ہے جبکہ ریاست میں ریزرو اسمبلی حلقوں کی تعداد 38 ہے ۔ وہیں مسلمانوں کی آبادی سترہ فیصدی ہے اور موجودہ مسلم ایم ایل اے کی تعداد 24 ہے۔ اب غور کیجئے، صوبہ کی تمام سیاسی پارٹیوں کی طرف سے دلتوں کو خوش کرنے کی ایک مہم چل رہی ہے ۔ حکومت ہو یا اپوزیشن سب اس کوشش میں مصروف ہیں کہ کس طرح سے دلتوں کی حمایت ان کو حاصل ہو ۔ اس معاملہ میں توڑ جوڑ کی سیاست شباب پر ہے ۔ وہیں اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے مسلم لیڈروں نے مسلم ووٹوں کو اپنی اپنی جھولی میں رکھنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔


اسمبلی کے دو سو 43 حلقوں میں تقریبا سو حلقوں میں مسلمانوں کی اچھی آبادی ہے اور اس میں ساٹھ ایسے حلقے ہیں ، جہاں مسلم آبادی ہی امیدواروں کی قسمت کا فیصلہ کرتی ہے ۔ لیکن مسلم ووٹوں کی تقسیم کے سبب مسلم امیدوار آبادی کے اعتبار سے جیت کر ایوان میں نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔ اب سیاسی پارٹیوں نے نہ صرف اپنی سیاسی بساط بچھانی شروع کر دی ہے ، بلکہ اس میں شدت آنی شروع ہوگئی ہے۔ آر جے ڈی لیڈر عارف حسین نے موجودہ حکومت پر سخت حملہ بولا ہے ۔


عارف حسین کے مطابق نتیش کمار سوشاسن کی بات کرتے ہیں اور اردو نوازی کا دم بھررہے ہیں ، لیکن اردو اکیڈمی اور اردو مشاورتی کمیٹی تک کو تشکیل دینے میں ناکام رہے ۔ عارف حسین نے کہا کہ ریاست کے آدھے سے زیادہ اسکولوں میں اردو کے ٹیچرس نہیں ہیں ، عالم اور فاضل کے مدرسوں میں حکومت ایک بھی پوسٹ کو منظور نہیں کرا سکی ہے اور اب الیکشن آیا ہے تو انہیں مسلمانوں کی یاد آرہی ہے ۔


وہیں جے ڈی یو کے ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے پاس کوئی ایشو نہیں ہے ۔ مولانا بلیاوی کے مطابق آزادی کے بعد پہلی مرتبہ بہار کو ایک ایسا وزیر اعلیٰ ملا ، جس نے مسلمانوں کی فلاح کے لئے کام کیا ہے ۔ مولانا بلیاوی کے مطابق مسلمانوں کے جتنے بھی ترقیاتی کام ہوئے ہیں ، اسے نتیش کمار نے شروع کیا ہے ۔ ادھر عام مسلمان سیاسی پارٹیوں کی الزام تراشی اور سیاست کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے ۔

مانا جارہا ہے کہ بہار میں اسمبلی انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے اور ایسا ہوا تو انتخابات میں محض ایک مہینہ کا وقت باقی رہ گیا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر سیاسی پارٹیاں اپنے ووٹوں کو متحد کرنے کی مہم میں لگی ہوئی ہیں ۔ وہیں عوام اپنے اپنے علاقہ کے بنیادی مسائل پر سیاسی رہنماؤں کو منتخب کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 22, 2020 01:22 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading