ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

ایم آئی ایم کی انٹری سے بہار کی سیاست میں ہلچل ، مسلم ووٹوں پر سیاسی پارٹیوں کی نظریں مرکوز

اسمبلی انتخاب کا وقت قریب آتے ہی ایک مرتبہ پھر سیاسی پارٹیوں کی بے چینی بڑھتی نظر آرہی ہے ۔ مزید برآں ایم آئی ایم کے آنے کے بعد مسلمانوں پر سیاست کرنے والی پارٹیوں کی مشکلات بھی بڑھ گئی ہیں ۔

  • Share this:
ایم آئی ایم کی انٹری سے بہار کی سیاست میں ہلچل ، مسلم ووٹوں پر سیاسی پارٹیوں کی نظریں مرکوز
ایم آئی ایم کی انٹری سے بہار کی سیاست میں ہلچل ، مسلم ووٹوں پر سیاسی پارٹیوں کی نظریں مرکوز

مجلس اتحاد المسلمین بہار کی سیاست میں کیا کمال کر پائےگی ، فی الحال کچھ بھی کہنا مشکل ہے ۔  لیکن گزشتہ لوک سبھا انتخاب اور اسمبلی کے ضمنی انتخاب کے نتائج دیکھ کر سیاسی تجزیہ کاروں کو لگتا ہے کہ مسلم ووٹوں پر سیاست کرنے والی پارٹیوں کے لئے اس مرتبہ کا اسمبلی الیکشن آسان نہیں ہوگا ۔ دراصل کئی دہائیوں سے بہار کا مسلمان سیاست میں اپنے آپ کو ٹھگا ہوا محسوس کرتا رہا ہے ۔ کبھی کانگریس کا بیس ووٹ رہا مسلم سماج بھاگلپور کے بدترین فرقہ ورانہ فساد کے بعد لالو پرساد کو اپنا مسیحا سمجھنے لگاتھا ۔ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد نے ایم اور وائی یعنی مسلم اور یادو کا اتحاد بنا کر ریاست میں پندرہ سالوں تک حکومت کی ، لیکن مسلمانوں کی تصویر بدلنے کے متعلق سابقہ لالو اور رابڑی حکومت نے بھی کوئی خاص کارنامہ انجام نہیں دیا ۔


سیکولرزم کی دہائی دے کر اقتدار کا مزہ لینے والی پارٹیوں کے سامنے مسلمان محض ووٹ بینک بنا رہا ۔ نتیش کمار کے اقتدار میں مسلمانوں کی فلاح کے لئے کام کیا گیا ، لیکن نتیش کمار کے کئی فیصلوں نے مسلمانوں کو مایوس کیا ۔ ریاست میں مسلمانوں کی حالت یہ بن گئی ہے کہ اب کوئی بھی پارٹٰی مسلم مسائل پر کھل کر بات کرنے سے بھی پرہیز کرتی ہے ۔ سیاسی پارٹٰیوں کو لگتا ہے کہ مسلمانوں کی بات کہنے سے اکثریتی طبقہ ناراض ہو جائے گا ۔ اسی فارمولہ پر لالو پرساد کے فرزند ور بہار کے اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو بھی چل رہے ہیں ۔


اب جبکہ اسمبلی انتخاب کا وقت قریب آرہا ہے ، ایک مرتبہ پھر سے سیاسی پارٹیوں کی بے چینی بڑھتی نظر آرہی ہے ۔ مزید برآں ایم آئی ایم کے آنے کے بعد مسلمانوں پر سیاست کرنے والی پارٹیوں کی مشکلات بڑھتی نظر آرہی ہیں ۔ ایم آئی ایم نے اپنی پہلی لسٹ جاری کرتے ہوئے 32 اسمبلی حلقوں سے اپنا امیدوار اتارنے کا اعلان کیا ہے ۔ ابھی مزید لسٹ آنی باقی ہے ۔ ایم آئی ایم کے اس قدم سے مسلم ووٹوں میں بکھراؤ ہونے کا پورا اندیشہ ہے ۔


سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق نوجوان طبقہ ایم آئی ایم کو پسند کرتا ہے ۔ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں کشن گنج اسمبلی حلقہ میں ایم آئی ایم امیدوار کی کامیابی نے ایم آئی ایم کا حوصلہ بلند کیا ہے ۔ پارٹٰی مسلم اکثریتی علاقوں میں اپنا امیدوار کھڑا کرے گی ۔ بہار کی 243 اسمبلی کی سیٹوں میں ساٹھ حلقہ ایسا ہے ، جہاں مسلمانوں کی آبادی امیدواروں کے قسمت کا فیصلہ کرتی ہے اور مسلمانوں کی اس آبادی کو ایم آئی ایم اپنی جانب کرنے کیلئے کام کرتی نظر آرہی ہے ۔
First published: Jun 26, 2020 08:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading