உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شراب کے نشے میں مدہوش فوج کے جوان نے بیوی سمیت تین خواتین کو ماری گولی ، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

    شراب کے نشے میں مدہوش فوج کے جوان نے بیوی سمیت تین خواتین کو ماری گولی ، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

    شراب کے نشے میں مدہوش فوج کے جوان نے بیوی سمیت تین خواتین کو ماری گولی ، وجہ جان کر رہ جائیں گے حیران

    Betiya Crime News: بہار کے بیتیا میں پیش آئے اس واقعہ کو انجام دینے والا ملزم جوان نریش ساہ دہلی میں تعینات ہے ۔ مفصل تھانہ پولیس نے ملزم جوان کو گرفتار کرلیا ہے اور ساتھ ہی لائسینسی بندوق بھی ضبط کرلی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      بیتیا : بہار کے بیتیا علاقہ سے ایک بڑی خبر سامنے آرہی ہے ۔ یہاں فوج کے ایک جوان نے اپنی بیوی سمیت تین خواتین کو گولی ماردی ۔ گولی اس کی بیوی کے علاوہ پڑوس کی ایک خاتون اور 15 سال کی لڑکی کو لگی ہے ، جنہیں علاج کیلئے جی ایم سی ایچ میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ یہ واقعہ مفصل تھانہ علاقہ کے بروت گاوں میں پیش آیا ۔

      بتایا جارہا ہے کہ نشہ میں مدہوش جوان اپنی بیوی انیتا کے ساتھ مار پیٹ کررہا تھا ، جس کے بعد وہ بھاگ کر گھر سے باہر نکل گئی اور گاوں کی خواتین کے درمیان جاکر چھپ گئی ۔ اس کے بعد غصہ میں فوجی جوان نے گھر کے اندر سے اپنی لائسنسی بندوق نکالی اور خواتین پر گولی چلادی ۔ فائرنگ کے اس واقعہ میں گاوں کی خواتین کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی کو بھی گولی لگ گئی ۔ اس فائرنگ میں بیوی کے علاوہ گاوں کی ایک خاتون پالمتی دیوی کو بھی گولی لگ گئی تو وہیں گاوں کی ایک لڑکی کاجل بھی گولی لگنے سے زخمی ہوگئی ۔

      فوجی جوان کی بیوی اور گاوں کی خاتون کو ایک ایک گولی لگی ہے جبکہ کاجل کے دونوں پاوں میں گولی لگی ہے ۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی جائے واقع پر پہنچی مفصل تھانہ پولیس نے ملزم جوان کو گرفتار کرلیا ہے اور معاملہ کی جانچ شروع کردی ہے ۔ ملزم جوان نریش ساہ کی بیوی نے بتایا کہ وہ برابر اس کے ساتھ مار پیٹ کرتا ہے اور اتوار کو بھی شراب کے نشے میں مدہوش ہوکر اس کے ساتھ مار پیٹ کررہا تھا ، جس کے بعد یہ واقعہ پیش آیا ۔

      بتادیں کہ ملزم جوان نریش ساہ دہلی میں تعینات ہے اور چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا ۔ مفصل تھانہ پولیس نے جہاں ملزم جوان کو گرفتار کرلیا ہے وہیں جوان کی لائسنسی بندوق بھی ضبط کرلی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: