ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

مظفر پورشیلٹر ہوم کیس: سپریم کورٹ سے بولی سی بی آئی۔ شیلٹر ہوم میں نہیں ہوا کسی لڑکی کا قتل

بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم میں نیا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں جانچ کر رہی سی بی آئی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ شیلٹر ہوم میں کسی لڑکی کی موت نہیں ہوئی۔ سی بی آئی کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کیس میں قتل کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور سبھی 35 لڑکیاں زندہ پائی گئیں۔

  • Share this:

بہار کے مظفر پور شیلٹر ہوم میں نیا انکشاف ہوا ہے۔ اس معاملے میں جانچ کر رہی سی بی آئی نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ شیلٹر ہوم میں کسی لڑکی کی موت نہیں ہوئی۔ سی بی آئی کی طرف سے پیش ہوئے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کیس میں قتل کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور سبھی 35 لڑکیاں زندہ پائی گئیں۔

شیلٹر ہوم سے ملی ہڈیاں بالغوں کی

سی بی آئی کے مطابق جن کے قتل کا شک ظاہر کیا گیا تھا وہ ساری لڑکیاں زندہ پائی گئی ہیں۔ وہاں سے ملی ہڈیاں کچھ دیگر بالغوں کی پائی گئی ہیں۔ سی بی آئی نےاپنی جانچ میں یہ صاف کیا ہے کہ مظفر پور شیلٹر ہوم میں کسی بھی نابالغ کا قتل نہیں کیا گیا تھا۔ اس معاملے میں سماعت فی الحال جاری ہے۔


اہم ملزم ہے برجیش ٹھاکر


اس کیس میں دہلی کی ساکیت کورٹ آئند14 جنوری کو اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔ معاملے میں اہم ملزم برجیش ٹھاکر ہے۔ برجیش ٹھاکر کے ذریعے چلائے جارہے شیلٹر ہوم میں 40 نابالغ لڑکیوں کا مبینہ طور پر جنسی استحصال کیا گیا تھا۔

 
First published: Jan 08, 2020 02:37 PM IST