ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں عید الفطر کی طرح عیدالاضحی کے موقع پر بھی نظر نہیں آرہی کوئی خاص رونق

پٹنہ کے بکرا بازار میں برائے نام جانور دکھائی دے رہے ہیں ۔ وہیں بازار میں خریدار نہیں پہنچنے پر بکرا تاجر پریشان ہیں ۔

  • Share this:
بہار میں عید الفطر کی طرح عیدالاضحی کے موقع پر بھی نظر نہیں آرہی کوئی خاص رونق
بہار میں عید الفطر کی طرح عیدالاضحی کے موقع پر بھی نظر نہیں آرہی کوئی خاص رونق

بہار میں کورونا کی دہشت عید الاضحی کے تہوار پر بھی پڑنے والی ہے ۔ لگاتار بڑھ رہے کورونا کے مریضوں کے سبب پہلے سے ہی لوگ خوف میں مبتلا ہیں اور اوپر سے لاک ڈاون نے تاجر پیشہ لوگوں کے کاروبار کو بری طرح سے متاثر کیا ہے ۔ نتیجہ کے طور پر پٹنہ کے بکرا بازار میں برائے نام جانور دکھائی دے رہے ہیں ۔ وہیں بازار میں خریدار نہیں پہنچنے پر بکرا تاجر پریشان ہیں ۔ دراصل کورونا اور سیلاب کے سبب دوسرے صوبوں سے بازار میں جانور نہیں آئے ہیں ۔ جو بھی بکرے ہیں وہ مقامی ہیں اور وہ بھی فروخت نہیں ہو پا رہے ہیں ۔


ادھر بہار کی مسلم تنظیمیں عیدالاضحی اور قربانی کے معاملہ پر خاموش ہیں ۔ کسی طرح کا کوئی حتمی بیان اس حوالہ سے مسلم تنظیموں کی طرف سے نہیں آیا ہے ۔ امارت شرعیہ بہار کے ناظم مولانا شبلی قاسمی نے نیوز 18 اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون قانون کو لوگوں کو فالو کرنا چاہئے۔ ان کے مطابق 31 جولائی تک لاک ڈاون ہے ، اگر لاک ڈاون کی مدت میں اضافہ نہیں ہوتا ہے ، تو عیدالاضحی کی نماز عیدگاہ میں پڑھنے کی حکومت سے اجازت مانگی جائے گی ، لیکن حکومت اگر سوشل ڈسٹینسنگ کی تحت کوئی بات کرتی ہے ، تو پھر لوگ عیدالفطر کی طرح عیدالاضحی کی نماز بھی گھروں میں پڑھیں گے ۔


واضح رہیکہ پٹنہ کے گاندھی میدان میں سب سے بڑی جماعت ہوتی ہے ، جس میں خود ریاست کے وزیر اعلیٰ لوگوں کو مبارک باد دینے جاتے ہیں ۔ کورونا کے سبب گاندھی میدان عیدین کمیٹی نے اعلان کر دیا ہے کہ گاندھی میدان میں عیدالاضحی کی نماز نہیں ہوگی ۔ ادھر پٹنہ کے حج بھون میں بھی عیدالاضحی کی نماز نہیں پڑھی جائے گی ۔ نماز کو لیکر بھی لوگوں میں کافی الجھن ہے ، لیکن لوگوں کی اس الجھن کو کسی بھی مسلم تنظیم نے ابھی تک دور نہیں کیا ہے۔


امارت شرعیہ بہار ، جماعت اسلامی ، کل ہند آئمہ مساجد بہار اور ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن نے اعلان کیا ہے کہ قربانی کا اہتمام لوگ کریں ، لیکن قربانی کرتے وقت کافی احتیاط برتیں ۔ جیسے جانور کو پردے میں رکھ کر قربانی کریں ، صاف صفائی کا سختی سے انتظام کیا جائے اور کسی بھی طرح کی بھیڑ نہیں لگائی جائے ۔ ماسک پہن کر اور سماجی دوری بناکر قربانی کے کام کو انجام دیا جائے ۔ لیکن ان سب کے باوجود لوگوں میں کورونا کی دہشت اور کاروبار کی خستہ حالی عید الاضحی کی خوشی اور قربانی کے فرائض میں رکاوٹ بن رہی ہے ۔ لوگ امید کررہے ہیں کہ حکومت کی جانب سے قربانی کے سلسلے میں کوئی اعلان ہو ۔ تاکہ امن و سکون کے ساتھ اس عظیم فریضہ کو پورا کیا جائے ۔ مسلم تنظیمیں بھی حکومت کے اعلان کی منتظر ہیں اور یہی سبب ہے کہ کھل کر کسی طرح کا واضح اعلان کرنے سے مسلم تنظیمیں بچ رہی ہیں۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 24, 2020 07:47 PM IST