உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کورونا وائرس: بہار میں پابندی کے باوجود پٹنہ میں مل رہے ہیں تمباکو اور پان مسالہ

    کورونا وائرس: بہار میں پابندی کے باوجود پٹنہ میں مل رہے ہیں تمباکو اور پان مسالہ

    کورونا وائرس: بہار میں پابندی کے باوجود پٹنہ میں مل رہے ہیں تمباکو اور پان مسالہ

    پٹنہ میں روزانہ صبح پانچ سے سات بجے تک پان مسالوں، سگریٹ اور کھینی کی دھڑلے سے سپلائی ہورہی ہے۔

    • Share this:
    پٹنہ۔ بہار میں ایک اعدادو شمار کے مطابق ۲۵ فیصد لوگ تمباکو اور پان مسالوں کا استعمال کرتے ہیں جس میں ۲۳ فیصد لوگ کھینی کا استعمال کرتے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کے مدّنظر محکمہ صحت نے ۱۳ اپریل کو ایک فیصلہ کیا تھا جس میں بارہ قسم کے پان مسالوں سمیت کھینی، بیڑی اور سیگریٹ پر مکمل پابندی لگائی گئی ہے۔ خریدنے والے اور بیچنے والوں پر قانونی کاروائی کرنے کا االتزام ہے جس میں دو سو روپئےجرمانہ اور چھ مہینہ تک کی قید کی سزا ہے۔

    لیکن پٹنہ میں روزانہ صبح پانچ سے سات بجے تک پان مسالوں، سگریٹ اور کھینی کی دھڑلے سے سپلائی ہورہی ہے۔ وہ بھی ڈبل قیمت پر۔ گٹکھا اور کھینی کھانے والے لوگ فون پر آرڈر کرتے ہیں اور صبح صبح انکے گھر پر ہوم ڈلیوری ہوجاتی ہے۔ پٹنہ کے بورنگ روڈ،دینکر گولمبر، کنکر باغ، کربیگھیہ اور راجہ بازار میں یہ تجارت خوب چل رہی ہے۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کام میں لگے لوگوں کا کہنا ہے کہ تھوڑا رسک تو ہے لیکن سبزی کے تھیلے میں چھپا کر آسانی سے اس کی ہوم ڈلیوری ہو رہی ہے۔ خاص بات یہ ہیکہ انہیں لوگوں کو اس پیسہ سے لگے تاجر پان مسالہ، گٹکھا اور کھینی پہنچا رہے ہیں جن کو وہ جانتے ہیں۔ ایسے میں کہا جا سکتا ہے کہ کوویڈ ۱۹ کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ حکومت نے اس لئے لیا تھا کہ لوگوں کی صحت کو بچایا جائے ساتھ ہی سڑکوں پر تھوکنے والوں کو بھی جیل میں ڈالنے کا سخت فیصلہ ہے لیکن اس قانون پر عمل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

    بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار: فائل فوٹو
    بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار: فائل فوٹو


    مزے کی بات یہ ہے کہ بڑے بڑے لوگ آسانی سے تمباکو کو ہوم ڈلیوری کرارہے ہیں۔ تمباکو کے کام میں لگے لوگوں کا کہنا ہیکہ پولیس فی الحال لاک ڈاون کو فالو کرانے میں مصروف ہے اسلئے زیادہ دقت نہیں ہورہی ہے۔ صبح کا وقت سب سے بہتر ہوتا ہے جس میں کھینی، بیڑی، سیگریٹ اور گٹکھا کی ہوم دلیوری آسانی سے ہو رہی ہے۔جانکاروں کے مطابق پٹنہ کی سڑکوں پر سناٹا ہے۔ لوگ لاک ڈاون کا احترام کررہے ہیں تاکہ اس وبا سے بچنے کا راستہ ہموار ہوسکے۔ اس لئے ایسے لوگوں پر کاروائی ہونی چاہئے جو اس قانون کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: