உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دکان کی آڑ میں نابالغ لڑکیوں کے ساتھ ایسا گھنونا کام کرتا تھا یہ 50 سالہ شخص ، کھلا راز تو سبھی کے اڑگئے ہوش

    دکان کی آڑ میں نابالغ لڑکیوں کے ساتھ ایسا گھنونا کام کرتا تھا یہ 50 سالہ شخص ، کھلا راز تو سبھی کے اڑگئے ہوش

    دکان کی آڑ میں نابالغ لڑکیوں کے ساتھ ایسا گھنونا کام کرتا تھا یہ 50 سالہ شخص ، کھلا راز تو سبھی کے اڑگئے ہوش

    Lakhisarai News: بہار کے لکھی سرائے میں پیش آئے اس واقعہ کے بعد پولیس نے فورا ملزم کو گرفتار کرلیا ہے ۔ پولیس اس کا پرانا مجرمانہ ریکارڈ بھی کھنگال رہی ہے ۔

    • Share this:
      لکھی سرائے : بہار کے لکھی سرائے ضلع میں انسانیت کو شرمسار کردینے والا واقعہ پیش آیا ہے ۔ ضلع کے کجرا تھانہ علاقہ میں ایک ادھیڑ عمر کا دکاندار لگاتار نابالغ لڑکیوں کو اپنی ہوس کا شکار بنا رہا تھا ۔ الزام ہے کہ اس نے گزشتہ ایک ہفتہ میں دو لڑکیوں کی آبروریزی کی ۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ دکاندار گاوں میں ہی کرانہ کی دکان چلاتا ہے ۔ اب جاکر ملزم دکاندار کی کرتوت سامنے آئی ہے ۔

      واقعہ کے بعد دونوں لڑکیوں کی طبیعت کافی بگڑ گئی ، جس کے بعد یہ معاملہ سامنے آیا ۔ معاملہ کی جانکاری کے بعد اہل خانہ نے اس کی اطلاع کجرا پولیس کو دی ۔ پولیس نے اس معاملہ میں فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم دکاندار کو حراست میں لے لیا ہے اور پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں میں کافی غصہ دیکھا جارہا ہے ۔

      بتایا جاتا ہے کہ ملزم دکاندار عادتا ایسا ہی ہے ۔ کئی مرتبہ اس طرح کی شکایت گاوں کے لوگوں سے بھی ملی تھی ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ کئی مرتبہ اس طرح کی شرمناک واردات کو انجام دے چکا ہے ۔ لیکن لوگوں نے اپنی عزت کی خاطر پولیس میں اس کی شکایت نہیں کی ۔ تاہم جب اس نے دو بچیوں کے ساتھ پھر اس طرح کی گھنونی کرتوت کو انجام دیا تو غصہ میں لوگوں نے اس کی جانکاری پولیس کو دی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ۔

      ایس ڈی پی او رنجن کمار نے نیوز 18 سے فون پر بات چیت میں بتایا کہ دو نابالغ لڑکیوں کی آبروریزی کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ اس واقعہ کے بعد خاتون تھانہ میں معاملہ درج کرلیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی ملزم دکاندار کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جارہی ہے ۔ میڈیکل جانچ کے بعد ہی واضح ہوپائے گا کہ الزامات میں کتنی سچائی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ دکاندار کے مجرمانہ ریکارڈ کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی جارہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: