ہوم » نیوز » No Category

بہار انتخابات : بی جے پی کو 160 جبکہ دیگر اتحادی پارٹیوں کو ملی 83 سیٹیں

پٹنہ : بہار میں اسمبلی انتخابات کیلئے سیٹوں کے تقسیم پر کئی دنوں تک سر پھٹول بعد آخر کار این ڈی اے کے درمیان اس معاملہ پر اتفاق رائے بن گیا ہے ۔

  • News18
  • Last Updated: Sep 14, 2015 03:48 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
بہار انتخابات : بی جے پی کو 160 جبکہ دیگر اتحادی پارٹیوں کو ملی 83 سیٹیں
پٹنہ : بہار میں اسمبلی انتخابات کیلئے سیٹوں کے تقسیم پر کئی دنوں تک سر پھٹول بعد آخر کار این ڈی اے کے درمیان اس معاملہ پر اتفاق رائے بن گیا ہے ۔

پٹنہ : بہار اسمبلی انتخابات کے لیے قومی جمہوری اتحادکی پارٹیوں نے گزشتہ کئي دنوں سے جاری گھمسان کے بعد آج بالآخر سیٹوں کی تقسیم کے معاہدے پر اتفاق کرلیا جس کے تحت بھارتی جنتا پارٹی 160 سیٹوں پر الیکشن لڑے گی جبکہ لوک جن شکتی پارٹی 40 سیٹوں پر، راشٹریہ لوک سمتا پارٹی 23 پر اور ہندوستانی عوام مورچہ 20 سیٹوں پر اپنے امیدوار اتارے گی۔


بی جے پی کے صدر امت شاہ نے آج یہاں پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں ایل جے پی کے لیڈر رام ولاس پاسوان، آر ایل ایس پی کے سربراہ اوپیندر کشواہا اور ایچ اے ایم کے صدر جیتن رام مانجھي کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایچ اے ایم کے چند امیدوار بی جے پی کے ٹکٹ پر بھی الیکشن لڑیں گے۔


مسٹر امت شاہ نے کہا کہ چاروں پارٹیاں متحد ہوکر ترقی کے ایجنڈے پر وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں الیکشن لڑیں گے اور دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے اعتماد کے ساتھ انتخابی میدان میں اتریں گے۔مسٹرامت شاہ نے اس موقع پر بی جے پی کے كار کنوں سے اپیل کی کہ وہ انتخابات میں نہ صرف اپنی پارٹی لیڈروں کو بلکہ اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کو بھی جیت دلانے کے لئے سخت محنت کریں۔


بی جے پی کے قومی صدر نے کہا کہ این ڈی اے کے خلاف بننے والا عظیم اتحاد ٹوٹ پھوٹ چکا ہے۔ اس اتحاد کے صدر نے ہی اس کو الوداع کہہ دیا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلی نتیش کمار کی ترقی کے نعرے کو بے اثر گردانتے ہوئے کہا کہ ملک میں 12 لاکھ کروڑ کی بدعنوانی کرنے والی کانگریس اور جنگل راج کے مترادف بن جانے والے لوگوں کے ساتھ مل کر ترقی نہیں ہوسکتی ہے۔


انہوں نے مسٹرنتیش کمار کی طرف سے پیش کی جانے والی ترقی کی اعداد و شمار پر کہا کہ یہ اعداد و شمار بہت پرانے اور اس وقت کے ہیں جب بی جے پی ان کے ساتھ حکومت میں شامل تھی۔ بی جے پی کے حکومت سے علاحدہ ہونے کے بعد سے بہار کی ترقی رک چکی ہے۔ ریاست کی جی ڈی پی میں کمی آئی، جبکہ جرائم میں اضافہ ہوا ہے اور ریاست بہار پھر سے جنگل راج کے دور میں پہنچ چکی ہے۔


انہوں نے کہا کہ بہار کے لئے وزیر اعظم نے سوا لاکھ کروڑ روپے کا خصوصی پیکیج اور 40 ہزار کروڑ روپے کی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔ اس کے لئے بہار میں ایسی حکومت کی ضرورت ہے جو مرکز کی طرف سے سے آنے والے ایک ایک پیسے کا صحیح استعمال کرے۔


انہوں نے کہا کہ این ڈی اے اور چاروں اتحادی پارٹیاں اپنا الگ الگ اور مشترکہ منشور جلد ہی جاری کریں گی۔ بعد میں مسٹر پاسوان نے نامہ نگاروں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ وہ سیٹوں تقسیم سے مکمل طور پر مطمئن ہیں۔ ہام کے صدر اور سابق وزیر اعلی مسٹر مانجھي نے کہا کہ" ہم نے مسٹر مودی کو غیر مشروط حمایت دی ہے اور ہمارا مقصد ہے کہ این ڈی اے کی جیت ہو"۔

First published: Sep 14, 2015 01:40 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading