உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bihar News: اردو ادب کی معروف شخصیت اور جےڈی یو کے سابق ایم ایل سی پروفیسر اسلم آزاد کا پٹنہ میں انتقال

    Bihar News: اردو ادب کی معروف شخصیت اور جےڈی یو کے سابق ایم ایل سی پروفیسر اسلم آزاد کا پٹنہ میں انتقال

    Bihar News: اردو ادب کی معروف شخصیت اور جےڈی یو کے سابق ایم ایل سی پروفیسر اسلم آزاد کا پٹنہ میں انتقال

    Patna News: جے ڈی یو کے سابق ایم ایل سی اور اردو دنیا کے معروف نام پروفیسر اسلم آزاد کا پٹنہ کے ایمس میں انتقال ہو گیا ۔ اسلم آزاد کافی دنوں سے بیمار تھے اور وہ ایمس میں زیر علاج تھے۔

    • Share this:
    پٹنہ : اس دنیائے فانی میں جو بھی آیا ہے، اسے ایک نہ ایک دن یہاں سے رخت سفر باندھنا ہے۔ آج صبح جے ڈی یو کے سابق ایم ایل سی اور اردو دنیا کے معروف نام پروفیسر اسلم آزاد کا پٹنہ کے ایمس میں انتقال ہو گیا۔ اسلم آزاد کافی دنوں سے بیمار تھے اور وہ ایمس میں زیر علاج تھے۔ اسلم آزاد بہار کے سیتامڑھی ضلع کے رہنے والے تھے۔ مولا نگر گاؤں میں پیدا ہوئے، لیکن پوری زندگی پٹنہ میں گزاری۔ پٹنہ یونیورسیٹی کے شعبہ اردو کے ٹیچر رہے۔ شعبہ کے صدر شعبہ رہے۔ جے ڈی یو نے انہیں اپنا ایم ایل سی بنایا تھا۔ وہ ایک بے باک رہنما تھے اور اپنے اصولوں کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزاری۔ قریب ایک درجن کتابوں کے مصنف تھے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : القاعدہ کی دھمکی پر مختار عباس نقوی نے کہا : یہ لوگ مسلمان کیلئے مصیبت


    اردو کے تمام پروگراموں میں ان کی شرکت پروگرام کے کامیاب ہونے کی ضمانت سمجھی جاتی تھی۔ وہ زندگی کے آخری دنوں تک اردو کے فروغ اور اس کی بقا کی لڑائی لڑتے رہے۔ برسراقتدار پارٹی کے رہنما ہونے باوجود وہ اردو کے سلسلے میں حکومت پر سخت تنقید کرنے میں کبھی نہیں ہچکچاتے تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ مسلمانوں میں احساس کمتری نہیں ہونی چاہئے۔ اردو زبان کو وہ دینا کے مین اسٹریم کی زبان سمجھتے تھے اور اس پر عمل بھی کرتے تھے۔

     

    یہ بھی پڑھئے :  ای ایم آئی بڑھ جائے گی آپ کی، لگاتار دوسرے مہینے انٹریسٹ ریٹ بڑھنے کا اثر


    پروفیسر اسلم آزاد جیسی شخصیتیں کبھی کبھی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے انتقال سے پوری اردو دنیا سوگوار ہے۔ پٹنہ جسے عظیم آباد بھی کہا جاتا ہے اسلم آزاد اس عظیم آباد کے چمکتا ہوا ستارہ تھے۔ اسکولوں میں اردو زبان کی پڑھائی اور اساتذہ کی بحالی کا معاملہ انہوں نے ہمیشہ زور شور سے اٹھایا۔ اردو کے تعلق سے وزیر اعلیٰ کو لگاتار مشورہ دیتے رہتے تھے۔ یہاں تک کی وزیر اعلیٰ نے ایک بار اردو پڑھنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو اسلم آزاد کو ہی اپنا ٹیچر بنایا تھا۔

    اسلم آزاد اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کا کیا ہوا کام ہمیشہ یہاں باقی رہے گا۔ پروفیسر اسلم آزاد کے جسد خاکی کو سیتامڑھی لے جایا گیا ہے۔ ان کے آبائی گاؤں مولا نگر میں آج رات 9 بجے جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی اور اپنے گاؤں کے ہی قبرستان میں وہ سپر خاک ہوں گے۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: