உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’’ باہر سے آنے والے مزدور اور طلباء خود سے آئیں بہار، بہار سرحد سے ان کو گھر تک پہنچائے گی حکومت‘‘

    جے ڈی یو کے ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کے مطابق نتیش کمار بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں، جنہوں نے اقلیتوں کے فلاح کا کام شروع کیا ہے۔ فائل فوٹو

    جے ڈی یو کے ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کے مطابق نتیش کمار بہار کے پہلے وزیر اعلیٰ ہیں، جنہوں نے اقلیتوں کے فلاح کا کام شروع کیا ہے۔ فائل فوٹو

    ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سوشیل کمار مودی نے اسپیشل ٹرین چلانے کی مانگ کی ہے تاکہ مزدوروں کو بہار لایا جا سکے۔

    • Share this:
    پٹنہ۔ بہار کے مزدوروں کا ایک بڑا قافلہ ابھی بھی دوسرے صوبوں میں پھنسا ہوا ہے۔ کوٹا میں طالب علموں کے پھنسے ہونے کی بات پر لگاتار بہار میں سیاست بھی ہو رہی ہے۔ اب سوال ہیکہ بہار کے مزدور اور طلباء کس طرح سے اپنے گھر پہنچیں گے۔ اس تعلق سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے مطابق مرکزی حکومت نے ایک گائڈ لائن جاری کیا ہے جس میں ایک صوبہ سے دوسرے صوبوں میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔ ایسے میں بہار حکومت نے واضح کیا ہیکہ جو لوگ باہر سے آنا چاہتے ہیں وہ خود بہار کے بارڈر تک پہنچنے کا انتظام کریں۔

    ادھر ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ سوشیل کمار مودی نے اسپیشل ٹرین چلانے کی مانگ کی ہے تاکہ مزدوروں کو بہار لایا جا سکے۔ بہار حکومت کو اندیشہ ہیکہ بڑی تعداد میں لوگ اب بہار لوٹیں گے ایسے میں ان کی میڈیکل جانچ اور بہار کے بارڈر سے ان کو انکے گھر تک پہنچانے کا چیلنج حکومت کے سامنے کھڑا ہوگیا ہے۔ اس سمت میں وزیر اعلیٰ لگاتار اعلیٰ افسروں  کے ساتھ میٹنگ کررہے ہیں اور حالات کا جائزہ لے رہے ہیں۔



    حکومت نے طے کیا ہیکہ جو لوگ بہار کے بارڈر پر آجاتے ہیں انکو بسوں کے ذریعہ انکے گھر تک  چھوڑا جائےگا۔ یاد رہیکہ جو لوگ باہر سے آرہے ہیں وہ سیدھے سیدھے پہلے ۲۱ دنوں تک کوارنٹائن میں رہیں گے۔ بارڈر سے صبح چھ بجے سے رات کو آٹھ بجے تک بس کھلےگی۔ تاخیر سے آنے والوں کو بارڈر پر ہی روک دیا جائےگا۔ بسوں کو ایک افسر کی نگرانی میں پورے اسکارٹ گاڑی کے ساتھ مختلف ضلعوں میں لایا جائےگا۔ ایک سو بسوں کو بارڈر پر روانہ کیا جا چکا ہے۔ باہر سے آنے والے تمام لوگوں کی مکمل میڈیکل جانچ ہوگی، انکے ہاتھ پر کوارنٹائن کا مہر ہوگا اس کے بعد ہی انہیں بہار میں انٹری ملے گی۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: