உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بہار حکومت کا بڑا فیصلہ ، مدرسوں میں زیر تعلیم لڑکیوں کو ملے گا وظیفہ ، اسی سال سے ہوگا اسکیم کا نفاذ

    بہار حکومت کا بڑا فیصلہ، مدرسوں میں زیر تعلیم لڑکیوں کو ملے گا وظیفہ، اسی سال سے ہوگا نفاذ

    بہار حکومت کا بڑا فیصلہ، مدرسوں میں زیر تعلیم لڑکیوں کو ملے گا وظیفہ، اسی سال سے ہوگا نفاذ

    بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم انصاری نے حکومت کے اس اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس فیصلہ سے مدارس میں پڑھنے والی ہزاروں غریب بچیوں کو فائدہ ہوگا ۔

    • Share this:
    بہار میں مدرسوں پر حکومت مہربان نظر آرہی ہے ۔ مدارس کے تعلیمی میعار کو درست کرنے اور خاص طور سے طالبات کو تعلیمی میدان میں آگے بڑھانے کے تعلق سے حکومت نے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے تحت ایک سے پانچ تک کی طالبات کو چھ سو روپے ، چھ سے آٹھویں تک کب طالبات کو بارہ سو روپے اور دسویں سے بارہویں تک کی طالبات کو اٹھارہ سو روپے وظیفہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔

    اس تعلق سے حکومت کی جانب سے الاٹمنٹ کردیا گیا ہے ۔ بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم انصاری نے حکومت کے اس اقدامات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے اس فیصلہ سے مدارس میں پڑھنے والی ہزاروں غریب بچیوں کو فائدہ ہوگا ۔ ساتھ ہی اسکول کی طرح مدرسہ بھی طالبات کی توجہ کا مرکز بنیں گے ۔ واضح رہے کہ یہ منصوبہ صوبہ کے اسکولوں میں پہلے سے ہی نافذ ہے ۔ اب مدارس میں پڑھنے والی لڑکیوں کو بھی سالانہ وظیفہ ملےگا ۔ مدرسہ بورڈ نے سبھی اضلاع کے ڈی ای او کو خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ اس اسکیم سے زیادہ سے زیادہ مدرسوں کو جوڑا جائے ، جس کا فائدہ طالبات کو مل سکے ۔

    خاص بات یہ ہے کہ بہار میں لڑکیوں کی تعلیمی شرح قومی تعلیمی شرح کے مقابلہ کافی کم ہے ۔ نتیش حکومت کی جانب سے خواتین کو خود کفیل بنانے کے سلسلے میں کئی اقدامات پہلے بھی کئے گئے ہیں ۔ اب مدارس کی طالبات کے تعلق سے حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اس قدم کو تعلیمی بیداری کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔

    مدرسہ بورڈ کے مطابق ہزاروں کی تعداد میں لڑکیاں مدرسوں میں زیر تعلیم ہیں ۔ پیسے کی کمی کے سبب لڑکیاں درمیان میں ہی تعلیم چھوڑ دیتی ہیں ، لیکن اس وظیفہ اسکیم سے امید ہے کہ ڈراپ آوٹ کا مسئلہ حل ہوگا ۔ ساتھ ہی مدرسوں میں لڑکیوں کی تعداد بھی بڑھےگی ۔ کہا جاتا ہے کہ ایک لڑکی کی تعلیم پورے خاندان کی تعلیم ہوتی ہے ، لیکن بہار کے اقلیتی سماج میں آج بھی لڑکیوں کے ساتھ انصاف نہیں ہوتا ہے ۔ تعلیم کے معاملہ میں جہاں انہیں اپنے گھر میں ہی نا انصافی دیکھنے کو ملتی ہے ، جب لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کی تعلیم پر توجہ نہیں دی جاتی  ہے ۔

    دانشوروں کے مطابق تعلیم کے سلسلے میں حکومت پر پوری طرح سے منحصر ہونا ٹھیک نہیں ہے لیکن مفلس اور غریب سماج کے لئے حکومت کی جانب سے شروع کیا جانے والا وظیفہ ان کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا ۔ امید کرنی چاہئے کہ آنے والے دنوں میں مدرسوں میں لڑکیوں کی تعداد بڑھے گی ۔ ساتھ ساتھ مدارس کے تعلیمی میعار کو درست کرنے کی مہم میں بھی یہ قدم میل کا پتھر ثابت ہوگا ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: