ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار: لاک ڈاؤن کی مار سے اب تک نہیں نکل سکی ہیں مساجد، اماموں کو تنخواہ کی ادائیگی ہو رہی مشکل

جمعہ کی نماز کے چندے سے مساجد کی زندگی چلتی ہے لیکن جمعہ کی نماز باقاعدگی سے نہیں ہونے کے سبب مساجد کے مسائل لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ مساجد کمیٹی کے ذمہ داروں کا کہنا ہیکہ شہر کے جن مساجد کے پاس دکانیں ہیں انکی حالت تھوڑی بہتر ضرور ہے لیکن جہاں آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ان مساجد کے امام لاک ڈاؤن میں دانے دانے کو محتاج ہو گئے ہیں۔

  • Share this:
بہار: لاک ڈاؤن کی مار سے اب تک نہیں نکل سکی ہیں مساجد، اماموں کو تنخواہ کی ادائیگی ہو رہی مشکل
بہار: لاک ڈاؤن کی مار سے اب تک نہیں نکل سکی ہیں مساجد

پٹنہ میں ایک سو سے زیادہ بڑی مساجد ہیں۔ لاک ڈاؤن کے بعد سے ہی مساجد میں جمعہ کی نماز نہیں ہو رہی ہے۔ گزشتہ چار جمعہ سے لوگ مساجد کا رخ تو کرنے لگے ہیں لیکن نمازیوں کی تعداد کافی کم ہے۔ نتیجہ کے طور پر مساجد کے امام، موذن اور صفائی کرنے والے لوگوں کی تنخواہوں کو ادا کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ وہیں بجلی اور پانی کا بل دینا ایک چیلنج بن گیا ہے۔ مساجد کی مالی حالت پہلے بھی اچھی نہیں تھی لیکن لاک ڈاؤن نے مساجد کے نظام زندگی کو پوری طرح سے خراب کردیا ہے۔


جمعہ کی نماز کے چندے سے مساجد کی زندگی چلتی ہے لیکن جمعہ کی نماز باقاعدگی سے نہیں ہونے کے سبب مساجد کے مسائل لگاتار بڑھ رہے ہیں۔ مساجد کمیٹی کے ذمہ داروں کا کہنا ہیکہ شہر کے جن مساجد کے پاس دکانیں ہیں انکی حالت تھوڑی بہتر ضرور ہے لیکن جہاں آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے ان مساجد کے امام لاک ڈاؤن میں دانے دانے کو محتاج ہو گئے ہیں۔ جانکاروں کا کہنا ہیکہ لاک ڈاؤن نے مساجد کمیٹی کو کافی سبق بھی دیا ہے۔ وہ یہ کہ مساجد کی آمدنی کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ضرور ہونا چاہئے، مساجد اگر پوری طرح سے صرف چندہ پر منحصر ہیں تو مستقبل میں ان مسجدوں کی مشکلیں کم ہونے والی نہیں ہیں۔


پٹنہ ہائی کورٹ مسجد کمیٹی کے سکریٹری محمد عظیم کا کہنا ہیکہ عام دنوں میں جمعہ کا چندہ پندرہ ہزار آسانی سے ہو جاتا تھا لیکن لاک ڈاؤن لگنے کے بعد چندہ برائے نام آیا ہے۔ کچھ دنوں سے لوگ جمعہ کی نماز میں آرہے ہیں لیکن نمازیوں کی تعداد کافی کم ہے ایسے میں جمعہ کا چندہ کافی مشکل سے تین سے پانچ ہزار روپیہ تک ابھی ہو پارہا ہے۔ محمد عظیم کا کہنا ہیکہ انکی مسجد کے پاس کئی دکانیں ہیں اس لئے امام و موذن کی تنخواہیں ادا ہو جاتی ہیں لیکن باقی ضرورتوں کو پورا کرنا ابھی بھی ایک چیلینج بنا ہوا ہے۔


وہیں مدارس و مساجد جو لوگوں کے چندے پر چلتے ہیں ان کا حوصلہ پوری طرح سے ٹوٹ رہا ہے۔ یہ صحیح ہیکہ لاک ڈاؤن اب پہلے جیسا نہیں ہے لیکن حالات بالکل پہلے جیسے ہیں جس کو پٹری پر آنے میں ابھی بھی کافی وقت لگ سکتا ہے۔ مساجد کی کمیٹی نے لوگوں سے مساجد کی مالی بحران کو ختم کرنے کی اپیل کی ہے۔ وہیں یتیم خانے، مکاتب و مدارس کی مشکلوں کو عام لوگوں کے سامنے رکھ کر یہ اپیل کی ہیکہ دینی اداروں کے مالی بحران کو حل کرنے کی لوگ کوشش ضرور کریں۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 04, 2020 03:43 PM IST