ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار : اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی عظیم اتحاد میں آپسی رنجش میں اضافہ

آر جے ڈی کے سینئر لیڈروں کی ناراضگی بھی پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے ۔ وہیں جیتن رام مانجھی کا جانا اور آرایل ایس پی سپریمو اوپیندر کشواہا کو نوٹس میں نہیں لینا ، عظیم اتحاد کو مصیبت میں ڈالنے کے لئے کافی ہے ۔

  • Share this:
بہار : اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی عظیم اتحاد میں آپسی رنجش میں اضافہ
بہار : اسمبلی انتخابات سے پہلے ہی عظیم اتحاد میں آپسی رنجش میں اضافہ

یوں تو ابھی بہار اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان نہیں ہوا ہے ، لیکن اس سے پہلے ہی عظیم اتحاد اور عظیم اتحاد کی بڑی پارٹی آر جے ڈی میں حالات تشویشناک ہوگئے ہیں ۔ جیتن رام مانجھی عظیم اتحاد کا دامن چھوڑ جلد ہی این ڈی اے کا حصہ ہوں گے تو وہیں آرایل ایس پی سپریمو اوپیندر کشواہا بھی اندر سے ناراض ہوگئے ہیں ۔ دراصل کشواہا کو آر جے ڈی نوٹس نہیں لے رہی ہے۔ حالانکہ ابھی سیٹوں کا تال میل ہونا باقی ہے ، لیکن انتخابات سے قبل عوام کو مثبت پیغام دینے میں عظیم اتحاد پوری طرح سے ناکام ثابت ہورہا ہے ۔ کانگریس پارٹٰی کے اندورونی مسائل بھی اپنی جگہ ہیں ۔


اگر بات عظیم اتحاد کی بڑی پارٹی آر جے ڈی کی کریں ، تو اسمبلی انتخابات کو لے کر تمام سیاسی پارٹیوں کی اپنی اپنی تیاری شباب پر ہے ۔ این ڈی اے اپنے ووٹروں کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہی ہے کہ نتیش کمار کی قیادت میں اسمبلی کا انتخاب ہوگا جبکہ اپوزیشن اب تک کوئی واضح پیغام دینے سے قاصر ہے ۔ عظیم اتحاد کو لیکر لوگوں میں ابھی بھی تشویش کا ماحول قائم ہے ۔ جانکاروں کا کہنا ہے کہ عظیم اتحاد کی آپسی رنجش ختم نہیں ہوئی ، تو انتخابی میدان میں انہیں نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ گزشتہ لوک سبھا کے انتخاب میں بھی عظیم اتحاد اپنے ووٹروں کو کوئی واضح پیغام دینے سے قاصر رہا تھا اور موجودہ اسمبلی اتنخابات میں بھی اب تک عظیم اتحاد کسی نتیجہ پر نہیں پہنچ سکا ہے ، جبکہ انتخابات میں کافی کم وقت رہ گیا ہے ۔


آر جے ڈی کے سینئر لیڈروں کی ناراضگی بھی پارٹی پر بھاری پڑ سکتی ہے ۔ وہیں جیتن رام مانجھی کا جانا اور آرایل ایس پی سپریمو اوپیندر کشواہا کو نوٹس میں نہیں لینا ، عظیم اتحاد کو مصیبت میں ڈالنے کے لئے کافی ہے ۔ آر جے ڈی کے سینئر لیڈر رگھوونش پرساد سنگھ کو پارٹٰی منانے کی کوشش میں جٹی ہے تو وہیں کئی دیگر لیڈروں نے حال میں آر جے ڈی کا دامن چھوڑ کر جے ڈی یو کا دامن تھاما ہے ۔ حالانکہ جے ڈی یو چھوڑ کر آر جے ڈی میں بھی لوگ آ رہے ہیں لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ عظیم اتحاد میں شامل پارٹیوں کے درمیان کوئی واضح سمجھوتہ نہیں ہوسکا ہے ، جس کے نتیجہ میں عظیم اتحاد نے کھل کر اپنے ووٹروں سے کوئی بات اب تک نہیں کہی ہے۔


جانکاروں نے عظیم اتحاد کی لیڈرشپ پر سوالات کھڑا کئے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر وقت رہتے ووٹروں کو عظیم اتحاد اپنے مظبوط ہونے کا احساس نہیں کراتا ہے ، تو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے ۔ جبکہ آر جے ڈی ایم ایل اے نعمت اللہ کا کہنا ہے کہ کسی کے پارٹی یا اتحاد چھوڑ کر جانے سے آر جے ڈی کو کوئی نقصان نہیں ہوگا ۔ ادھر عظیم اتحاد میں آپسی رنجش سے این ڈی اے خوش ہے ۔ جے ڈی یو کے سابق ایم ایل سی پروفیسر اسلم آزاد کا کہنا ہے کہ این ڈی اے میں کوئی تنازع نہیں ہے اور ووٹر جانتے ہیں کہ نتیش کمار نے بہار کے لئے کام کیا ہے۔

 

واضح رہے کہ بہار میں اونچی ذات ، پچھڑی ذات ، دلت ، مہا دلت ، مسلم ، یادو اور مختلف ذاتوں کو لیکر سیاسی لائحہ عمل مرتب کیا جاتا ہے ۔ سیاسی پارٹیاں ذات پات کی سیاست کرکے اپنی جیت کا جھنڈا گاڑنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس مرتبہ بھی یہی نظارہ صاف طور سے دیکھنے کو مل رہا ہے ، لیکن عظیم اتحاد کی بڑی پارٹی آر جے ڈی اس معاملہ میں کوئی کرشمہ کی امید لگائے بیٹھی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 28, 2020 06:11 PM IST