ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

نویں درجہ کی طالبہ کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت دری کی کہانی کا یہ ہے سچ

بہار کے ظفرپور میں ایک فرضی اجتماعی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے

  • Share this:
نویں درجہ کی طالبہ کے ساتھ ہوئی اجتماعی عصمت دری کی کہانی کا یہ ہے سچ
علامتی تصویر

بہار کے مظفرپور میں ایک فرضی اجتماعی عصمت دری کا معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک نوجوان نے نویں میں پڑھنے والی لڑکی کو اپنی سالی بتاکر اس کے ساتھ گینگ ریپ کی ایف آئی آر درج کرا دی۔ دلیپ نام کا یہ شخص کبھی بزنیس پارٹنر رہے اپنے چار دوستوں کو سبق سکھانا چاہتا تھا۔ پولیس نے محض پانچ گھنٹوں کے اندر اس واقعہ کی حقیقت سامنے لا دی۔

مٹھانپورا کے املی چوک میں رہنے والے دلیپ نے تھانے کو اطلاع دی کی اس کی 16 سال کی سالی کے ساتھ چار لوگوں نے اجتماعی عصمت دری کی ہے۔ تھانے پہچی متاثرہ اور اس کے مبینہ جیجا دلیپ کی اس شکایت سے مٹھانپورا پولیس حرکت میں آگئی۔

پولیس دلیپ کو ساتھ لے کر ان چاروں ملزمین کے گھروں پر پہنچی لیکن کہیں بھی ملزم نہیں پکڑے گئے۔ دلیپ نے میڈیا کی پوچھ گچھ میں بتایا کہ اس کے جاننے والے چار نوجوانوں نے اس کی سالی کے ساتھ اس کے ہی سامنے رات بھر جنسی زیادتی کی ہے۔

اس انتہائی حساس معاملہ کی تحقیقات سے پریشان پولیس نے جب متاثرہ کا میڈیکل ٹسٹ کرایا تو ڈاکٹرنے جانچ رپورٹ میں عصمت دری کی بات سے صاف انکار کر دیا۔ گہرائی سے تحقیقات کی گئی تو معلوم ہوا کہ دلیپ مبینہ متاثرہ کا جیجا ہے ہی نہیں۔ وہ اس کی بیوی کے ساتھ بیوٹی پارلر میں کام کرتی ہے اور دلیپ نے اسے سالی کہہ کر اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔

حادثہ کی رات دلیپ کی بیوی بھی گھر پر موجود نہیں تھی۔ پولیس کی پوچھ گچھ میں یہ بھی سامنے آیا گیا ہے کہ دلیپ شراب کاروبار میں پہلے بھی جیل جا چکا ہے۔ اس بات کی تصدیق اس نے خود کی۔ ساتھ ہی کاروبار نہیں کرنے کی وجہ سے دلیپ کا ملزمین سے رشتے خراب ہو چکے ہیں۔

تحقیقات میں یہ سامنے آیا کہ ذاتی تنازعہ میں ہوئی مار پیٹ کے بعد بدلا لینے کی نیت سے دلیپ نے اپنے پرانے پارٹنرس کے خلاف اجتماعی عصمت دری کی سازش کو انجام دیا۔ پولیس نے دلیپ کو حراست میں لے لیا ہے، وہیں دوسری جانب لڑکی کے والدین کو بھی بلایا گیا ہے۔
First published: Oct 23, 2018 10:56 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading