اپنا ضلع منتخب کریں۔

    یہاں کوئی مسلم نہیں پھر بھی ہوتی ہے پانچ وقت کی اذان! جانئے کیسے قومی اتحاد کی مثال بنا یہ گاوں؟

    یہاں کوئی مسلم نہیں پھر بھی ہوتی ہے پانچ وقت کی اذان! جانئے کیسے قومی اتحاد کی مثال بنا یہ گاوں؟

    یہاں کوئی مسلم نہیں پھر بھی ہوتی ہے پانچ وقت کی اذان! جانئے کیسے قومی اتحاد کی مثال بنا یہ گاوں؟

    Nalanda News: بہار کے نالندہ ضلع کے بین بلاک میں ایک گاوں ایسا ہے، جہاں پانچ وقت کی اذان ہوتی ہے، لیکن نماز پڑھنے یہاں گاوں کا کوئی شخص نہیں پہنچتا ہے ۔ ماڑی گاوں میں اب ایک بھی مسلم کنبہ نہیں ہے، لیکن مسجد میں پانچ وقت کی اذان کا سلسلہ جاری ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bihar | Nalanda
    • Share this:
      نالندہ : بہار کے نالندہ ضلع کے بین بلاک میں ایک گاوں ایسا ہے، جہاں پانچ وقت کی اذان ہوتی ہے، لیکن نماز پڑھنے یہاں گاوں کا کوئی شخص نہیں پہنچتا ہے ۔ ماڑی گاوں میں اب ایک بھی مسلم کنبہ نہیں ہے، لیکن مسجد میں پانچ وقت کی اذان کا سلسلہ جاری ہے ۔ دراصل یہ سب فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کرنے کا قصہ ہے۔ ہندو سماج کے لوگ مسجد کی دیکھ بھال اور نگرانی کا کام کرتے ہیں اور وقت پر پانچ مرتبہ اذان کی صدا بلند ہوتی ہے ، جس کی ذمہ داری گاوں کے ہندووں کے ہاتھوں میں ہے ۔

      فرقہ وارانہ انتشار کی خبروں سے دور اس گاؤں میں کوئی خاص پروگرام ہو تو ہندو سماج کے لوگ مسجد کی صفائی میں دن رات لگ جاتے ہیں۔ مسجد کی پینٹنگ ہو یا اس کی تعمیر کا معاملہ ، پورے گاؤں کے لوگ تعاون کرتے ہیں۔ مسجد کی صفائی کی ذمہ داری گوتم مہتو، اجے پاسوان، بکھوری جمادار اور دیگر لوگوں کے کندھوں پر ہے۔ اس مسجد سے گاؤں کے لوگوں کے عقیدے  بھی جڑے ہوئے ہیں۔

      یہ بھی پڑھئے: بابری مسجد، یوم سیاہ، یوم شہادت، بابری زندہ ہے، 6 دسمبر جیسے ہیش ٹیگز کا ٹرینڈ


      یہ بھی پڑھئے: معمارِ دستور ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی برسی، پی ایم مودی و دیگر قائدین نے یوں کیا خراج عقیدت


      جب بھی گھر میں خوشی کا کوئی پروگرام ہوتا ہے تو ہندو برادری کے لوگ مسجد پہنچ جاتے ہیں۔ یہ گہرا عقیدہ ہے کہ شادی ہو یا کوئی بھی خوشی کا موقع، سب سے پہلے وہ مسجد کی زیارت کرتے ہیں۔ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ جو لوگ ایسا نہیں کرتے ہیں، ان پر آفت آجاتی ہے۔ گاؤں کے لوگ بتاتے ہیں کہ صدیوں سے چلی آرہی اس روایت پر ہر کوئی عمل پیرا ہے۔ مسجد کے باہر ایک مزار بھی ہے۔ اس پر بھی لوگ چادر چڑھاتے ہیں ۔

      بتایا جاتا ہے کہ گاؤں میں پہلے آگ اور سیلاب کے واقعات اکثر ہوتے رہتے تھے۔ تقریباً 600 سال پہلے حضرت اسماعیل اس گاؤں میں آئے ۔ ان کے آنے کے بعد گاؤں میں کوئی تباہی نہیں ہوئی، گاؤں میں ان کے آنے کے بعد آگ لگنے کے واقعات بھی بند ہوگئے ۔ جب ان کی موت ہوئی تو گاؤں والوں نے انہیں وہیں دفن کر دیا۔ اس مسجد کی تعمیر تقریباً 200 سال قبل ہوئی تھی۔ 1942 کے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد سبھی مسلم خاندان گاؤں چھوڑ کر ہجرت کر گئے۔ تب سے اس مسجد کی دیکھ بھال ہندو کررہے ہیں ۔

      جب نالندہ یونیورسٹی تھی تو وہاں بازار ہوا کرتا تھا، اس لئے اس گاؤں کا نام منڈی پڑ گیا تھا۔ بعد میں یہ ماڑی ہوگیا ۔ یہاں کے لوگ گنگا جمنی ثقافت کی مثال پیش کر رہے ہیں، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ آخر یہ لوگ اذان کیسے دیتے ہیں! دراصل یہاں کے ہندو اذان دینا نہیں جانتے ہیں، اس لئے وہ پین ڈرائیو کا سہارا لیتے ہیں۔ یعنی اذان کی ریکارڈنگ لاؤڈ اسپیکر کے ذریعہ چلائی جاتی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: