ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

پٹنہ میں نظر آیا بھارت بند کا اثر، کسانوں سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے کی بند میں شرکت

کسانوں کے اس بند کا اثر بہار کے مختلف ضلعوں میں بھی دیکھا گیا، خاص طور سے مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہیں کئی جگہوں پر دلہا و دلہن بھی جام میں پھنسے نظر آئے۔ شہر میں کچھ دکانیں کھلی رہیں تو کچھ بند۔

  • Share this:
پٹنہ میں نظر آیا بھارت بند کا اثر، کسانوں سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے کی بند میں شرکت
پٹنہ میں نظر آیا بھارت بند کا اثر، کسانوں سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں نے کی بند میں شرکت

بہار میں بھارت بند کا ملا جلا اثر دیکھنے کو ملا۔ زرعی قوانین کے خلاف صبح سے ہی لوگ پٹنہ کی سڑکوں پر اترنے لگے۔ اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد نظر آئی۔ مختلف سیاسی پارٹیوں کا پرچم سڑکوں پر لہراتا رہا۔ پٹنہ کے ڈاک بنگلا چوراہے کو پوری طرح سے جام کردیا گیا تھا۔ ڈاک بنگلا چوراہا پٹنہ کا خاص چوراہا ہے جس کو جام کردینے سے عام لوگوں کی پریشانیاں بڑھ جاتی ہیں۔ احتجاج میں شامل لوگوں نے اس قانون میں ترمیم کرنے کی بات نہیں کی بلکہ زرعی قوانین کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔


آرجےڈی، کانگریس، لیفٹ، پپو یادو کی پارٹی سمیت مختلف سیاسی، سماجی و ملی تنظیموں نے بند میں شرکت کی۔ کسان یونین کے کارکنوں نے احتجاج کر زرعی قوانین کو کسانوں کے خلاف بتایا۔ کسان یونین نے اعلان کیا کہ انکی مانگیں جب تک نہیں مانی جائیں گی تب تک یہ احتجاج جاری رہےگا۔ پٹنہ میں احتجاج کر رہے لوگوں نے ڈھول بجایا، گانے گائے، ہل کو کاندھے پر اٹھا کر نعرے بازی کی۔ اناج سامنے رکھ کر کسانوں کے حقوق کی بات کی اور حکومت کے خلاف نعرہ لگایا۔


کسانوں کے اس بند کا اثر بہار کے مختلف ضلعوں میں بھی دیکھا گیا، خاص طور سے مسافروں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہیں کئی جگہوں پر دلہا و دلہن بھی جام میں پھنسے نظر آئے۔ شہر میں کچھ دکانیں کھلی رہیں تو کچھ بند۔ اپوزیشن پارٹیوں کے کارکنوں کی شرکت کے سبب بھارت بند کچھ علاقوں میں کامیاب نظر آیا تو کچھ علاقوں میں عام زندگی عام دنوں کی طرح چلتی نظر آئی۔ اس موقع پر حفاظت کا سخت بندوبست کیا گیا تھا۔ جگہ جگہ پولیس کے عملے احتجاج کی مانیٹرنگ کرتے رہے۔ بھارت بند کے سبب بس خدمات، ریلوے خدمات کے علاوہ عام زندگی کافی حد تک متاثر ہوئی۔ بھارت بند کے احتجاج میں خواتین نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی اور مرکزی حکومت سے اس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 08, 2020 02:54 PM IST