ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں سیلاب سے سیمانچل کا برا حال ، بانس کا پل بنا کر لوگ کررہے ہیں ایک دوسرے سے رابطہ

سیمانچل سے جیت کر ایوان میں جانے والے علاقہ کے رہنما یہاں کے مسائل پر بات تو کرتے ہیں ، لیکن بنیادی مسئلہ کو حل کرانے میں اب تک ناکام رہے ہیں ۔

  • Share this:
بہار میں سیلاب سے سیمانچل کا برا حال ، بانس کا پل بنا کر لوگ کررہے ہیں ایک دوسرے سے رابطہ
بہار میں سیلاب سے سیمانچل کا برا حال ، بانس کا پل بنا کر لوگ کررہے ہیں ایک دوسرے سے رابطہ

اکیسویں صدی میں جب بہار کی یہ تصویر دنیا کے سامنے جاتی ہے ، تو آج بھی سیمانچل لوگوں کو پرانے دنوں کی یاد دلا دیتی ہے ۔ سیمانچل کے نام سے جانا جانے والا بہار کا یہ علاقہ چار اضلاع پر مشتمل ہے ۔ کٹیہار، پورنیہ ، ارریہ اور کشن گنج ۔ ان اضلاع میں 24 اسمبلی حلقے اور چار پارلیمانی حلقے ہیں ۔ سیمانچل مسلم اکثریتی علاقہ ہے ، لیکن ترقی کے معاملہ میں بہار کا یہ سب سے پسماندہ علاقہ سمجھا جاتا ہے ۔ سیلاب ہر سال یہاں تباہی مچا کر چلا جاتا ہے اور ہزاروں لوگوں کا آشیانہ ختم ہو جاتا ہے ۔ اس علاقہ میں نتیش کمار کا سوشاسن کتنا پہنچا ہے ، اس کی مثال علاقہ کا چچری پل ہے ۔ کہیں سیلاب کی تباہی کے بعد چچری پل بنتا ہے اور کہیں سالوں بھر آمد و رفت کے لئے عوامی سطح پر چچری پل بنایا جاتا ہے۔ عوام ایک دوسرے سے چندہ کرکے بانس کی چچری کا پل بناتے ہیں ۔ تب جاکر ایک گاوں سے دوسرے گاوں میں رابطہ ہوپاتا ہے اور پٹری سے اتری زندگی کو کسی طرح سنبھالنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔


سیمانچل سے جیت کر ایوان میں جانے والے علاقہ کے رہنما یہاں کے مسائل پر بات تو کرتے ہیں ، لیکن بنیادی مسئلہ کو حل کرانے میں اب تک ناکام رہے ہیں ۔ اس علاقہ نے کبھی سید شہاب الدین کو پارلیمنٹ میں بھیجا تو کبھی ایم جے اکبر کو اور کبھی سید شاہنواز حسین کو ۔ سیمانچل کے گاندھی کہے جانے والے تسلیم الدین نے بھی علاقہ کی نمائندگی کی اور اب اسدالدین اویسی کی پارٹی ایم آئی ایم کا بھی سب سے زیادہ زور انہیں مسلم اکثریتی علاقوں پر ہے ، جہاں سے بہار کی سیاست میں اپنا جھنڈا گاڑ نے کی پارٹی کوشش میں جٹی ہے ۔


بہار میں سیلاب کا قہر جاری۔
بہار میں سیلاب کا قہر جاری۔


لیکن یہاں کے مسائل لوگوں کی زندگی میں اتنے کڑواہٹ لاکر کھڑا کردئے ہیں ، جہاں سے نکلنے میں شاید یہاں کے لوگوں کو کافی وقت لگ جائے ۔ فی الحال چچری پل نتیش کمار کے سوشان پر بھی سوال کھڑا کررہا ہے اور مرکزی حکومت کے انصاف کے ساتھ وکاس کے نعرہ پر بھی ۔ باوجود اس کے لوگوں کو یقین ہے کہ ایک دن حکومت کی نظر اس علاقہ پر بھی پڑے گی اور یہاں کے بنیادی مسلہ بھی حل ہوں گے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Aug 12, 2020 10:28 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading