உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیمانچل سے اس بار بنایا جائے مدرسہ بورڈ کا چیئرمین: Former JDU MLA نوشاد عالم

     سابق ایم ایل اے جےڈی یو۔

    سابق ایم ایل اے جےڈی یو۔

    بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین کو لیکر جے ڈی یو کے مسلم لیڈروں نے ہی سوال کھڑا کر دیا ہے۔ جےڈی یو کے سینئر لیڈر اور سابق اقلیتی فلاح کے وزیر نوشاد عالم نے کہا کہ سب سے زیادہ مدرسے سیمانچل میں ہیں پھر بھی سیمانچل کو نمائندگی نہیں ملتی ہے ۔

    • Share this:
    بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین کا معاملہ سرخیوں میں ہے۔ حالانکہ صوبہ میں قریب سبھی اقلیتی ادارہ تحلیل ہیں لیکن مدرسہ بورڈ کے چیئرمین عبدالقیوم انصاری کی مدت کار پوری ہونے کے بعد سے ہی مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کو لیکر ایک ہنگامہ مچا ہے۔ سیاسی لیڈروں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم اور مدرسوں سے جڑے لوگ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کی کرسی پر اپنے آپ کو دیکھ رہے ہیں۔ اس سیٹ کے لئے سیکڑوں لوگ امیدوار ہیں اور آخری فیصلہ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کو کرنا ہے۔ یہ مانا جاتا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ کافی اہم ہوتا ہے۔ حکومت ایسے شخص کو بورڈ کا چیئرمین بنانا چاہتی ہے جس سے سیاسی فائدہ حاصل ہو سکے اور مدرسوں کے لوگوں کو بھی چیئرمین سے کوئی دقت نہیں ہو۔

    حکومت کے سامنے چیلنج ہیکہ وہ قریب 125 لوگوں کی فہرست میں کس کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین بنائے۔ ادھر جےڈی یو کے لیڈروں نے مدرسہ بورڈ کے معاملہ پر بڑا بیان دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہیکہ سیمانچل سے کسی شخص کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین بنایا جائے۔ دراصل بہار میں سب سے زیادہ مدرسہ سیمانچل کے چاروں ضلعوں میں ہے۔ کشن گنج، کٹیہار، پورنیہ اور ارریہ میں ہزاروں طلباء مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں لیکن سیمانچل کو نمائندگی نہیں دی جاتی ہے۔ جےڈی یو کے سابق ایم ایل اے نوشاد عالم نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے مانگ کیا ہیکہ اس بار سیمانچل کو نظرانداز کرنا مناسب نہیں ہے۔ انکے مطابق جب مدرسوں کی تعداد سیمانچل میں سب سے زیادہ ہے پھر سیمانچل کے کسی شخص کو مدرسہ بورڈ کے چیئرمین  بنانے میں کیا دشواری ہو سکتی ہے۔

    نوشاد عالم نے صاف طور سے کہا ہیکہ مدرسہ بورڈ کے چیئرمین کے سلسلے میں حکومت غور کرے اور سیمانچل کے کسی بھی شخص کو مدرسہ بورڈ کا چیئرمین بنایا جائے۔ نوشاد عالم کے مطابق حکومت سیمانچل کے ساتھ انصاف کرتی ہے تو اس سے جہاں پارٹی کو فائدہ ہوگا وہیں سیمانچل کے مدارس کی ترقی کا راستی کھلے گا۔ جےڈی یو کے مسلم لیڈروں کا کہنا ہیکہ حکومت مدرسہ بورڈ کے تشکیل میں تاخیر نہیں کرے اور مدرسہ بورڈ کو کسی لائق شخص کے حوالے کیا جائے۔ نوشاد عالم نے سابق چیئرمین عبدالقیوم انصاری کے مدت کار کی جانچ کرانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدرسہ بورڈ میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: