உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سیمانچل میں اپنی سیاسی زمین کو مضبوط بنانے کی جےڈی یو کی کوشش ایک بار پھر سے ہوئی تیز

    سیمانچل میں اپنی سیاسی زمین کو مضبوط بنانے کی جےڈی یو کی کوشش ایک بار پھر سے ہوئی تیز

    سیمانچل میں اپنی سیاسی زمین کو مضبوط بنانے کی جےڈی یو کی کوشش ایک بار پھر سے ہوئی تیز

    سابق ایم ایل اے مجاہد عالم نے یہ بھی کہا کہ سیمانچل میں ایم آئی ایم کا جھوٹا نعرہ زیادہ دنوں تک نہیں چلےگا۔ لوگ ایک بار پھر سے جےڈی یو پر بھروسہ کریں گے۔ مجاہد عالم نے کہا کہ سیمانچل کے لوگ اس بار ایم آئی ایم کے جھانسے میں آگئے تھے لیکن اب سے ایسا نہیں ہوگا۔

    • Share this:
    پٹنہ۔ بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سب سے زیادہ ایم آئی ایم کے پانچ امیدواروں کی کامیابی کی چرچا ہوئی۔ایم آئی ایم نے سیمانچل کی سیاست کو پوری طرح سے بدل کر رکھ دیا۔ وہیں سیمانچل میں پہلے سے موجود جےڈی یو، آرجےڈی اور کانگریس کے لیڈروں کو کئی جگہ ہار کا سامنا کرنا پڑا۔خاص طور سے جےڈی یو کی کراری ہار کو پارٹی کے مسلم لیڈر بھلا نہیں پا رہے ہیں۔

    کشن گنج کے کوچادھامن سے جےڈی یو کے ایم ایل اے رہے مجاہد عالم کا کہنا ہیکہ نتیش کمار نے بہار کے مسلمانوں کی فلاح کے لئے کافی کام کیا۔ سیمانچل کی ترقی کے تعلق سے بھی موجودہ حکومت بیحد سنجیدہ رہی لیکن انتخابات میں جےڈی یو کو ووٹ نہیں ملا اور ہم انتخاب ہار گئے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہیکہ سیمانچل سے ہمارا وجود ختم ہوگیا۔ ہم تجزیہ کر رہے ہیں اور لوگوں کو بتا رہے ہیں کہ کام کو دیکھ کر وہ جےڈی یو کی حمایت کریں۔

    سابق ایم ایل اے مجاہد عالم نے یہ بھی کہا کہ سیمانچل میں ایم آئی ایم کا جھوٹا نعرہ زیادہ دنوں تک نہیں چلےگا۔ لوگ ایک بار پھر سے جےڈی یو پر بھروسہ کریں گے۔ مجاہد عالم نے کہا کہ سیمانچل کے لوگ اس بار ایم آئی ایم کے جھانسے میں آگئے تھے لیکن اب سے ایسا نہیں ہوگا۔ مجاہد عالم نے یہ بھی کہا کہ ضمنی انتخاب میں پہلی بار کشن گنج کی سیٹ پر ایم آئی ایم نے جیت حاصل کی تھی لیکن اگلے ہی انتخاب میں ایم آئی ایم وہ سیٹ گنوا دی اسی طرح آئندہ ہونے والے انتخاب میں ایم آئی ایم کا سیمانچل سے صفایا ہو جائےگا۔ سیمانچل میں جےڈی یو کے مسلم لیڈر اس علاقہ میں باقاعدہ مہم چلائیں گے اور عام لوگوں کو حکومت کے منصوبہ کی جانکاری دیں گے۔

    واضح رہیکہ بہار کا سیمانچل وہ علاقہ ہے جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے لیکن یہ علاقہ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی اعتبار سے حاشیہ پر کھڑا ہے۔ سیمانچل کی رہنمائی کرنے والے لوگوں نے کبھی بھی اس علاقہ کے بنیادی مسئلہ کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ نتیجہ کے طور پر آج بھی اس علاقہ میں تعلیمی اداروں کی کمی ہے، صحت کے مراکز برائے نام ہیں، روزگار کا معقول انتظام نہیں ہے، ساٹھ فیصدی سے زیادہ کی آبادی کھیتی مزدور ہے وہیں ہر روز روزگار کی تلاش میں سیمانچل سے لوگوں کا قافلہ ملک کے دوسرے شہروں کا رخ کرتا ہے۔

    ان بنیادی سوالات کو حل کرنے کا وعدہ وقت وقت پر تمام سیاسی پارٹیاں کرتی رہی ہیں لیکن سیمانچل کا بنیادی سوال آج بھی قائم ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ ایم آئی ایم کے پانچوں ایم ایل اے اس علاقہ کے مسئلہ کو حل کرا پانے میں کتنا کامیاب ہو پاتے ہیں۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: