உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آر جے ڈی ۔ جے ڈی یو میں زوروں پر کشیدگی! تلخی مٹانے کیلئے اتحاد کی چھوٹی پارٹیوں نے کی بڑی پہل

    آر جے ڈی ۔ جے ڈی یو میں زوروں پر کشیدگی! تلخی مٹانے کیلئے اتحاد کی چھوٹی پارٹیوں نے کی بڑی پہل ۔ فائل فوٹو ۔

    آر جے ڈی ۔ جے ڈی یو میں زوروں پر کشیدگی! تلخی مٹانے کیلئے اتحاد کی چھوٹی پارٹیوں نے کی بڑی پہل ۔ فائل فوٹو ۔

    Bihar News: بہار میں برسراقتدار مہا گٹھ بندھن کی دو سب سے بڑی پارٹیوں جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے درمیان مبینہ تلخی کی خبروں کے درمیان اب اس اتحاد کی چھوٹی پارٹیوں نے بھی ایک کوآرڈینیشن کمیٹی کی جلد تشکیل کی مانگ تیز کردی ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Bihar | Patna | Bihar Sharif
    • Share this:
      پٹنہ : بہار میں برسراقتدار مہا گٹھ بندھن کی دو سب سے بڑی پارٹیوں جے ڈی یو اور آر جے ڈی کے درمیان مبینہ تلخی کی خبروں کے درمیان اب اس اتحاد کی چھوٹی پارٹیوں نے بھی ایک کوآرڈینیشن کمیٹی کی جلد تشکیل کی مانگ تیز کردی ہے ۔ ریاست میں بی جے پی سے اقتدار چھیننے کے بعد بنائے گئے دو مہینے سے بھی کم پرانے اتحاد کی راہ ابھی سے پتھریلی نظر آنے لگی ہے ۔ دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان ناراضگی کی قیاس آرائی کو اس بات سے تقویت ملی جب آر جے ڈی کے ریاستی سربراہ جگدانند سنگھ نے کہا کہ نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو اگلے سال اپنے باس نتیش کمار کی جگہ لیں گے ۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد جگدانند سنگھ کے بیٹے سدھاکر سنگھ کو وزیر زراعت کے عہدہ سے استعفی دینا پڑا ۔ سدھاکر لگاتار اپنی ہی سرکار کو کٹگھرے میں کھڑا کررہے تھے ۔

      حالانکہ تیجسوی یادو نے اپنی جانب سے یہ کہہ کر صورتحال کو ٹھنڈہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اعلی عہدہ پر قبضہ جمانے کیلئے جلد بازی میں نہیں ہیں ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جگدانند سنگھ کو ایک سرکلر جاری کرنے کیلئے کہا کہ آر جے ڈی کارکنان کوئی بھی ایسا بیان نہیں دیں گے، جس سے نئے اتحاد کو مشکل ہو ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: کلو کے بین الاقوامی دسہرہ پروگرام میں شامل ہوئے وزیر اعظم مودی، ہوا شاندار استقبال


      آر جے ڈی اور جے ڈی یو میں تلخی کی قیاس آرائی کے درمیان اب اس اتحاد کی چھوٹی ساتھی پارٹیوں اور خاص طور پر بائیں بازو کی پارٹیوں کو لگتا ہے کہ یہ مناسب وقت ہے کہ ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بنائی جائے، جس کی غیر موجودگی کو ریاست میں این ڈی اے سرکار کے گرنے کیلئے اکثر ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: ممبئی میں ریلائنس اسپتال کو بم سے اڑانے کی دھمکی، کالر نے امبانی کنبہ کا بھی لیا نام


      سی پی آئی ( ایم ایل ) لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر محبوب عالم نے بتایا کہ انہوں نے راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر سدھاکر کے وزیر کے عہدہ سے استعفی کے فورا بعد نائب وزیر اعلی تیجسوی پرساد یادو سے ملاقات کی ۔ ہمیں لگا کہ سرکار ٹھیک چل رہی ہے اور سنگھ کے رویہ جیسے معاملات کا اثر پڑ رہا ہے ۔ ایسے میں ان سے فورا ایک کوآرڈینیشن کمیٹی کی تشکیل اور ایک مشترکہ کم از کم پروگرام تیار کرنے کی اپیل کی ۔

      عالم نے کہا کہ ہمارا مقصد اس طرح کی غلط فہمی کو دور کرنا تھا، جس کی ضرورت مزید محسوس ہوئی ہے ۔ انہوں نے دعوی کیا کہ تیجسوی یادو نے صبر و تحمل کے ساتھ ان کی ساری باتیں سنیں اور انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ جلد ہی کمیٹی کی تشکیل کی جائے گی ۔ عالم نے کہا کہ انہوں نے مجھے ان نمائندوں کے نام کے ساتھ آنے کیلئے کہا ، جنہیں میری پارٹی کوآرڈینیشن کمیٹی کا حصہ بنانا چاہئے گی ۔ میرا ماننا ہے کہ وہ دیگر اتحادی پارٹیوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں اور ہم کچھ پیش رفت دیکھیں گے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: