ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار کے باہر پھنسے ہزاروں مزدور لوٹے وطن، گاؤں آنے پر ہو گئے جذباتی، بولے۔ دو وقت کی روٹی کیلئے نہیں جائیں گے باہر

بہار میں یوں تو مزدوروں کے آنے کا سلسلہ لاک ڈاون کے پہلے ہفتہ سے ہی شروع ہوگیا تھا لیکن اس وقت مزدور پیدل چل کر بغیر کسی سہارے کے کسی طرح اپنے گھر کافی مشکلوں کے ساتھ پہنچے۔

  • Share this:
بہار کے باہر پھنسے ہزاروں مزدور لوٹے وطن، گاؤں آنے پر ہو گئے جذباتی، بولے۔ دو وقت کی روٹی کیلئے نہیں جائیں گے باہر
بہار میں یوں تو مزدوروں کے آنے کا سلسلہ لاک ڈاون کے پہلے ہفتہ سے ہی شروع ہوگیا تھا لیکن اس وقت مزدور پیدل چل کر بغیر کسی سہارے کے کسی طرح اپنے گھر کافی مشکلوں کے ساتھ پہنچے۔

بہار میں یوں تو مزدوروں کے آنے کا سلسلہ لاک ڈاون کے پہلے ہفتہ سے ہی شروع ہوگیا تھا لیکن اس وقت مزدور پیدل چل کر بغیر کسی سہارے کے کسی طرح اپنے گھر کافی مشکلوں کے ساتھ پہنچے۔ مزدوروں پر جم کر سیاست چلتی رہی اس درمیان چار مئ سے باقاعدہ طلباء و مزدوروں کو ٹرین کے ذریعہ لایا جانے لگا۔ ایک ایک دن میں کئ کئ ٹرینوں سے مزدوروں کو پٹنہ، داناپور، کٹیہار، گیا، برونی دربھنگہ، سہرسا، کھگڑیا، سیتامڑی، مغربی چمپارن، بیگوسرائے، بہارشریف، موتیہاری، بھاگلپور، حاجی پور، چھپرا، ارریہ، پورنیہ اور آرا سٹیشن پر لایا گیا۔

ایک دن میں روزانہ قریب اٹھارہ ہزار سے ۲۲ ہزار مزدور بہار پہنچ رہے ہیں۔ آج بھی اٹھارہ ٹرینوں کے ذریعہ مزدوروں کو لایا گیا ہے۔آچانک سے اتنی بڑی تعداد میں باہر سے بہار پہنچے لوگوں کو دیکھتے ہوئے حکومت بھی کافی احتیاط برت رہی ہے۔ مختلف اسٹیشن پر اترتے ہی طلباء و مزدوروں کا اسکرینگ کیا جارہا ہے پھر انہیں بسوں کے ذریعہ انکے ضلع کے بلاک میں بنے کوارنٹین سینٹر پر بھیج دیا جاتا ہے۔


کوارنٹین سینٹر پر ایک بار پھر سے مزدوروں کی جانچ کی جاتی ہے جہاں انہیں ۲۱ دنوں تک رکھا جاتا ہے۔ حکومت کی جانب سے وہاں کھانے پینے کا انتظام کیاگیا ہے، حالانکہ کئ ضلعوں میں مزدوروں نے یہ بھی الزام لگایا ہیکہ کوارنٹین سینٹر پر کھانے پینے اور ٹھہرنے کا معقول انتظام نہیں ہے۔ واضح رہیکہ باہر سے آنے والوں میں صرف مزدوروں کا ہی کوارنٹین کیا جارہا ہے جبکہ طلباء کو انکے گھر پر ہی ۲۱ دن رہنے کی ہدایت دی گئ ہے۔گاؤں پہنچنے پر مزدوروں نے اپنے گھروالوں اور دوستوں سے اپنا غم بیان کیا۔

مزدوروں نے کہا کی ایک ایک کمرہ میں بغیر کھائے پیئے کافی مشکل وقت گزارا ہے۔ مزدوروں کے مطابق وہ شہروں میں دو وقت کی روٹی کے لئے گئے تھے لیکن برا وقت آیا تو شہر والوں نے انکا ساتھ نہیں دیا۔ کافی لوگ پیدل ہی گھر آئے تھے، اب وہ ٹرین سے آرہے ہیں۔ مزدوروں کے مطابق اب ان میں ہمت نہیں ہیکہ وہ دوبارہ شہروں کا رخ کرے۔ یہ کہنا غیر مناسب نہیں ہیکہ مزدوروں کی محنت سے شہروں کی رفتار ہے اگر مزدور شہروں میں جانے کے بجائے اپنے گاؤں میں ہی کام کرنے لگے تو شہروں کی رفتار رکنا طے ہے۔

First published: May 09, 2020 03:14 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading