ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار پنچایتی راج کے وزیر کپل دیو کامت کا انتقال، کورونا وائرس سے تھے متاثر

ریاست کے وزیر اعلی اور جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمارکے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے کامت اکتوبر میں مدھوبنی ضلع سے ایم ایل اے تھے۔ کامت کی خراب صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے جے ڈی یو نے اتوار سے اس بار ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی بہو مینا کامت کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Oct 16, 2020 10:26 AM IST
  • Share this:
بہار پنچایتی راج کے وزیر کپل دیو کامت کا انتقال، کورونا وائرس سے تھے متاثر
کپل دیو کامت کی فائل فوٹو

پٹنہ۔ جنتا دل متحدہ (جے ڈی یو) کے سینئر لیڈر اور پنچایتی راج کے وزیر کپل دیو کامت کا آج علی الصبح انتقال ہوگیا۔ وہ 69 سال کے تھے۔ کنبہ کے ذرائع نے جمعہ کے روز بتایا کہ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں ایک ہفتہ قبل پٹنہ کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں داخل کرایا گیا تھا۔ حالانکہ وہ پہلے ہی گردوں کے عارضہ میں مبتلا تھے اور ایک دن کے وقفہ سے ان کا ڈائلیسس ہو رہا تھا۔ اچانک حالت نازک ہونے کے بعد انہیں وینٹی لیٹر رکھا گیا ، لیکن ان میں کوئی بہتری نہیں ہوئی اور بالآخر ان کا انتقال ہوگیا۔


ریاست کے وزیر اعلی اور جے ڈی یو کے قومی صدر نتیش کمارکے انتہائی قریبی سمجھے جانے والے کامت مدھوبنی ضلع سے ایم ایل اے تھے۔ کامت کی خراب صحت کو مدنظر رکھتے ہوئے جے ڈی یو نے اتوار سے اس بار ہونے والے اسمبلی انتخابات میں ان کی بہو مینا کامت کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔



اس سے قبل 12 اکتوبر کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر اور پسماندہ اور انتہائی پسماندہ طبقات کے وزیر ونود کمار سنگھ کا ہریانہ کے گڑگاؤں کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں انتقال ہو گیا تھا۔ وہ کورونا وائرس کا شکار تھے۔ انہیں برین ہیمریج ہونے پر اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی نازک حالت کو دیکھتے ہوئے بی جے پی نے اسمبلی انتخابات میں ان کی اہلیہ نشا سنگھ کو کٹیہار ضلع کی پران پور نشست سے امیدوار بنانے کا اعلان کیا ہے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ 11 مئی 1951 کو ضلع مدھوبنی میں انوکھی کامت کے گھر میں پیدا ہوئے کپل دیو کامت اعلی تعلیم حاصل نہیں کرسکے ، لیکن ان کی سیاست میں سرگرمی صرف 29 سال کی عمر میں 1980 میں بہت بڑھ گئی تھی۔ 1985 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامت بابو برہی سیٹ سے آزاد امیدوارکی حیثیت سے اترے لیکن وہ الیکشن ہار گئے تھے۔

کامت سابق ایم ایل اے گنانند جھا اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر جگن ناتھ مشرا کے ساتھ کانگریس میں بہت سرگرم تھے۔ بعد میں وہ راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) میں شامل ہوئے۔ فروری 2005 میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں کامت کو جے ڈی یو نے اپنا امیدوار بنایا ، لیکن آر جے ڈی امیدوار پروفیسر اوما کانت یادو نے انہیں شکست دے دی ۔ بعد کے انتخابات میں جے ڈی یو نے کامت کو ایک بار پھر ٹکٹ دیا ، اور اس بار انہوں نے آر جے ڈی کے پروفیسر اوما کانت یادو کو ہرا دیا۔ انہوں نے پھر 2015 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور نتیش حکومت میں پنچایتی راج کا وزیر بنایا گیا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Oct 16, 2020 10:21 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading