ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

لاک ڈاون اور کورونا کے سبب نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے سامنے کھڑی ہوئی یہ بڑی پریشانی

جن گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور اسمارٹ فون کی تعداد کم ہے ، وہاں آن لائن کلاس محض خانہ پری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔

  • Share this:
لاک ڈاون اور کورونا کے سبب نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے سامنے کھڑی ہوئی یہ بڑی پریشانی
لاک ڈاون اور کورونا کے سبب نجی اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے سامنے کھڑی ہوئی یہ بڑی پریشانی

کورونا کی دہشت اپنی جگہ پر ہے ، لیکن اس وبا نے نہ صرف لوگوں کی زندگی کا معمول بدل دیا ہے بلکہ لوگوں کے انداز فکر کو بھی کافی حد تک متاثر کیا ہے ۔ اس میں ایک حصہ تعلیم کا بھی ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ روایتی طریقہ کو چھوڑ کر کورونا کے سبب تمام اسکولوں نے آن لائن کلاس کا انتظام کیا ہے ۔ آن لائن کلاس کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں ، لیکن جن گھروں میں ایک یا دو اسمارٹ فون موجود ہے ، ان گھروں کی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں ۔ ایک مسئلہ تو خود آن لائن کلاس کا ہے ، جہاں چھوٹے چھوٹے بچوں کو موبائل یا کمپیوٹر پر گھنٹوں بیٹھنا پڑ رہا ہے اور دوسرا مسئلہ ان گھروں کا ہے ، جہاں کمپیوٹر موجود نہیں ہے اور اسمارٹ فون بھی ضرورت کے مطابق ہی ہیں ۔ ایسے گھروں میں ایک سے زیادہ بچے ہیں ، تو ان کی تعلیم کتنی سنجیدگی سے ہوپارہی ہے سمجھنا آسان ہے ۔


دراصل جن گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور اسمارٹ فون کی تعداد کم ہے ، وہاں آن لائن کلاس محض خانہ پری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔ ادھر اسکولوں کی فرمائش بھی کمال کی ہے۔ آن لائن ہی اسکول ٹیسٹ منعقد کررہے ہیں ۔ تاکہ ان کو فیس ملتی رہے ۔ کورونا وبا نے لوگوں کی معیشت کو تہس نہس کردیا ہے ۔ کاروبار بند ہے اور نوکری پیشہ لوگوں کی فکر گھر کے چولہے کو روشن کرنے تک محدود ہوکر رہ گئی ہے ۔ اس میں آن لائن کلاس کا انتظام کرنا اور نجی اسکولوں کی فیس ادا کرنا کافی مشکل ہورہا ہے ۔


جن گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور اسمارٹ فون کی تعداد کم ہے ، وہاں آن لائن کلاس محض خانہ پری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔
جن گھروں میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور اسمارٹ فون کی تعداد کم ہے ، وہاں آن لائن کلاس محض خانہ پری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے ۔


سرپرست چاہتے ہیں کہ فیس میں چھوٹ ملے اور خاص طور پر ٹرانسپورٹ فیس نہ لی جائے ، لیکن اس تعلق سے نہ ہی اسکول سنجیدہ ہے اور نہ ہی حکومت ۔ ماہرین کے مطابق آن لائن کلاس کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہا ، تو آنے والے وقت میں بچوں کو کئی قسم کی بیماریاں لاحق ہوسکتی ہیں ۔ جبکہ سرپرست پریشان ہیں کہ ان کے موبائل پر ہی آن لائن کلاس ہوتی ہے ۔ زیادہ بچے ہیں ، تو سبھی بچوں کیلئے الگ سے ایک ایک اسمارٹ فون خریدنا اپنے آپ میں ہی ایک مشکل کام ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 21, 2020 10:01 PM IST