உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Bihar: مسلمانوں کو سامنے رکھ کر یکساں سول کوڈ پر کی جارہی ہے سیاست : خالد انور

    Bihar: مسلمانوں کو سامنے رکھ کر یکساں سول کوڈ پر کی جارہی ہے سیاست : خالد انور

    Bihar: مسلمانوں کو سامنے رکھ کر یکساں سول کوڈ پر کی جارہی ہے سیاست : خالد انور

    جے ڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے پٹنہ میں نیوز18 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یکساں سول کوڈ اگر ملک کے مفاد میں ہے ، تو ضرور اسے لانے کی کوشش کی جائے ، لیکن صرف سیاست کے لئے اس مسئلہ کو سامنے لایا گیا تو یہ مناسب نہیں ہے۔

    • Share this:
    پٹنہ : جے ڈی یو ایم ایل سی ڈاکٹر خالد انور نے یکساں سول کوڈ کے معاملہ پر بڑا بیان دیا ہے۔ خالد انور کا کہنا ہے کہ جے ڈی یو پہلے دن سے ہی ملک کے تمام لوگوں کے پرسنل لا کی حمایت کرتی رہی ہے ۔ ساتھ ہی جے ڈی یو سب کو اپنے رسم و رواج کے ساتھ زندگی گزارنے کی حمایت کرتی ہے۔ خالد انور کا کہنا ہے کہ آئین میں دئے گئے حقوق کے مطابق ملک میں رہنے والے تمام لوگوں کو اپنے پرسنل لا کے ساتھ رہنے کا حق ہے ۔ جے ڈی یو ایم ایل سی خالد انور نے پٹنہ میں نیوز18 سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یکساں سول کوڈ اگر ملک کے مفاد میں ہے ، تو ضرور اسے لانے کی کوشش کی جائے ، لیکن صرف سیاست کے لئے اس مسئلہ کو سامنے لایا گیا تو یہ مناسب نہیں ہے۔

     

    یہ بھی پڑھئے : بہارمیں دو بیویوں کی رضامندی سے شوہر کی ہوئی انوکھی تقسیم، جان کر رہ جائیں گے دنگ!


    خالد انور کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو سامنے رکھ کر یکساں سول کوڈ کی بات کی جارہی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ خالد انور کے مطابق خود ہندوؤں میں مختلف علاقوں اور مختلف ذاتوں کا الگ الگ پرسنل لا ہے۔ یکساں سول کوڈ کا معاملہ محض ایک سیاسی مدعا ہے۔ خالد انور نے کہا کہ مسلمانوں کا الگ سے کوئی پرسنل لا نہیں ہے ، بلکہ مسلم سماج میں پانچ طرح کا پرسنل لا ہے۔ حکومت مسلمانوں کو آگے کر یکساں سول کوڈ کی بات کہہ رہی ہے ، لیکن اس سے سب سے زیادہ متاثر ہندو طبقہ ہوگا ، جس سے انکار نہیں ہے۔

    جےڈی یو نے صاف کیا کہ یکساں سول کوڈ کے سلسلے میں سیاست بند ہونی چاہئے۔ ہندو طبقہ کے بڑی ذاتوں کے لوگوں میں کئی کئی پرسنل لا ہیں ۔ اتر پردیش کے لوگوں کا الگ پرسنل لا ہے جبکہ بہار کے برہمن سماج کا الگ پرسنل لا ہے۔ قبائل طبقہ میں الگ لگ سیکڑوں پرسنل لا موجود ہیں ۔ ایسے میں یکساں سول کوڈ لا کر ملک کا کس طرح سے فائدہ ہوگا ، حکومت کو یہ واضح کرنا چاہئے۔

     

    یہ بھی پڑھئے: کنبہ کو منظور نہیں تھا پیار، ایک دوسرے سے 1100 KM دور بیٹھے جوڑے نے اٹھایا خوفناک قدم


    ہندوستان ایک جامع ثقافت والا ملک ہے۔ برسوں سے لوگ اپنے رسم و رواج کے ساتھ رہتے آئے ہیں اور وہ اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق خوشی خوشی زندگی گزارتے ہیں۔ ان پر حکومت یکساں سول کوڈ تھوپ کر ایک طرح سے ان کا استحصال کرے گی تاہم ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کی یکساں سول کوڈ سے اگر ملک کو فائدہ ہے تو اس پر بحث کرائی جائے لیکن نقصان ہے اور صرف سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو اس سیاست کو ختم کرنا چاہئے۔

    خالد انور کا کہنا ہے کہ آئین میں دئے گئے حقوق کو پامال کرنا غیر مناسب ہے ۔ سب کو اپنے طریقہ سے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے اور اسے برقرار رکھنا ملک کے مفاد میں ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: