உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گوپال گنج : زہریلی شراب پینے سے 10 افراد کی موت ، وزیر نے کہا : بدنام کرنے کی سازش

    گوپال گنج : زہریلی شراب پینے سے 10 افراد کی موت ، وزیر نے کہا : بدنام کرنے کی سازش

    گوپال گنج : زہریلی شراب پینے سے 10 افراد کی موت ، وزیر نے کہا : بدنام کرنے کی سازش

    Gopalganj Poisonous Liquor Death Case : بدھ کی دیر رات مہلوکین کی تعداد پانچ سے بڑھ کرجمعرات کی صبح آٹھ ہوگئی ۔ اس کے بعد دوپہر تک دو اور لوگوں کی موت ہونے سے یہ تعداد اب دس تک پہنچ گئی ہے۔

    • Share this:
      گوپال گنج : بہار میں شراب بندی کے باوجود اس پر پوری طرح روک لگانے پانے میں ریاستی حکومت ناکام ثابت ہورہی ہے ۔ ایک مرتبہ پھر زہریلی شراب پینے کی وجہ سے 10 لوگوں کو اپنی جان گنوانی پڑی ہے ۔ یہ واقعہ محمد پور اور کوشہر میں پیش آیا ، جہاں زہریلی شراب واقعہ میں 10 لوگوں کی موت ہوگئی جبکہ ایک کا علاج ابھی بھی پٹنہ پی ایم سی ایچ میں چل رہا ہے ۔ جمعرات کو جن کی موت ہوئی ہے ان میں سورج رام اور بلرام رام کے نام بھی شامل ہیں ۔ بتادیں کہ بدھ کی دیر رات مہلوکین کی تعداد پانچ سے بڑھ کرجمعرات کی صبح آٹھ ہوگئی ۔ اس کے بعد دوپہر تک دو اور لوگوں کی موت ہونے سے یہ تعداد اب دس تک پہنچ گئی ہے۔

      زہریلی شراب واقعہ پر ریاستی وزیر جنک رام نے بدھ کو مہلوکین کے اہل خانہ سے مل کر مدد کی یقین دہانی کرائی ، لیکن انہوں نے کہا کہ بہار سرکا کو بدنام کرنے کی سازش ہورہی ہے ۔ وہیں سابق ممبر اسمبلی اور بی جے پی لیڈر متھیلیش تیواری نے کہا کہ الیکشن میں این ڈی اے کی جیت کے بعد ایسی سازش رچی گئی اور سرکار کو بدنام کیا جارہا ہے ۔ سرکار اس کی اعلی سطحی جانچ کروائے گی ۔

      بتادیں کہ مہلوکین میں مکیش رام ، چھوٹے لال پرساد، چھوٹے لال سونی ، سنتوش شاہ اور رام بابو رائے کے نام شامل ہیں ۔ ان میں مکیش رام کے گھر سے دیسی شراب بھی برآمد ہوئی ہے ۔ وہیں 40 سال کے رام بابو رائے محمد پور کے وارڈ نمبر پانچ کے رہنے والے تھے ۔ وہ اپنے ماں باپ کے اکلوتے بیٹے تھے ۔ ان کی تین بہنیں ہیں ۔

      گوپال گنج زہریلی شراب واقعہ میں محمد پور گاوں کے لال بابو پرساد کی بھی موت ہوئی ہے ۔ لال بابو پرساد محمد پور کے پربھوناتھ پرساد کے بیٹے ہیں ۔ پربھوناتھ پرساد کے دو بیٹوں میں لال پرساد سب سے چھوٹے بیٹے تھے ۔ وہ مزدوری کرکے اپنے کنبہ کی پرورش کررہے تھے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: