ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار میں اب نجی اسکولوں کے اساتذہ اتریں گے سڑک پر ، جانئے کیا ہیں مطالبات

پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اسکولوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے تعلق سے حکومت کو دو جنوری تک کا وقت دیا ہے ۔ حکومت اگر اسکولوں کے مسئلہ کو حل نہیں کرتی ہے ، تو ایسوسی ایشن پٹنہ میں بڑا احتجاج کرے گا ۔

  • Share this:
بہار میں اب نجی اسکولوں کے اساتذہ اتریں گے سڑک پر ، جانئے کیا ہیں مطالبات
بہار میں اب نجی اسکولوں کے اساتذہ اتریں گے سڑک پر ، جانئے کیا ہیں مطالبات

بہار میں نجی اسکولوں کے اساتذہ سڑک پر اترنے کی تیاری کررہے ہیں۔ گزشتہ کئی مہینوں سے دانے دانے کو محتاج اساتذہ کے پاس علاج کرانے تک کا پیسہ نہیں ہے۔ پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اعلان کیا ہے کہ جس طرح کسانوں نے دہلی کو گھیرا ہے ، اسی طرح سے نجی اسکولوں کے اساتذہ پٹنہ کو گھیریں گے ۔ واضح رہے کہ بہار میں تعلیمی میعار کو بہتر بنانے والے نجی اسکول انتہائی خستہ حالی کے دور سے گزر رہے ہیں ۔ لاک ڈاون میں نجی اسکولوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے ، اسکول بند ہے ، فیس کا پیسہ آ نہیں رہا ہے ، ایسے میں اسکولوں میں کام کرنے والے ملازمین کو بغیر تنخواہ گزارا کرنا پڑ رہا ہے ۔


پیسہ کی کمی کے سبب کئی اساتذہ کی موت ہوگئی ہے ۔ اس سے ناراض پرائیویٹ اسکول اینڈ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن نے اسکولوں کے مسئلہ کو حل کرنے کے تعلق سے حکومت کو دو جنوری تک کا وقت دیا ہے ۔ حکومت اگر اسکولوں کے مسئلہ کو حل نہیں کرتی ہے ، تو ایسوسی ایشن پٹںہ میں بڑا احتجاج کرے گا ۔ پرائیویٹ اسکول اینڈ چیلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن کے قومی صدر شمائل احمد کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے معاملہ میں لگاتار سیاسی لیڈروں سے رابطہ کیا گیا ۔ وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ، وزیر تعلیم، بہار کے گورنر سمیت کئی سطح پر لکھ کر دیا گیا ، لیکن نجی اسکولوں کے مسئلہ کو سننے والا کوئی نہیں ہے ۔ اپنے حقوق کو لے کر اب تحریک چلانے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے ۔


واضح رہے کہ بہار میں تقریبا 25 ہزار نجی اسکول ہیں ، جس سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں ۔ چلڈرین ویلفیئر ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ زیادہ تر اسکولوں کے پاس پیسہ نہیں ہے۔ ایسویس ایشن نے حکومت سے چار چیزوں کا مطالبہ کیا ہے ۔


کیا ہیں مطالبات؟

1۔ دو جنوری سے اسکولوں کو کھولا جائے۔

2۔ اسکولوں کی مالی حالت درست کرنے کے لئے اسپیشل مراعات دی جائے۔

3۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن کے تحت پڑھ رہے بچوں کی چار سال کی بقایہ فیس حکومت ادا کرے۔

4۔ اسکولوں کے ٹیکس کو معاف کیا جائے۔

اسکولوں کی انتظامیہ نے خبردار کیا ہے کہ ان کے مطالبات پورے نہیں ہوئے تو اساتذہ سڑک پر اتریں گے  غورطلب ہے کہ لاک ڈاون اور کورونا کے سبب عام لوگوں کی مالی حالت خراب ہوئی ہے ، جس کے نتیجہ کے طور پر طلبہ کے گارجین وقت پر اسکولوں کو فیس ادا نہیں کر سکے ۔

ادھر حکومت نجی اسکولوں کو کوئی سہولت نہیں دیتی ہے ، جبکہ نجی اسکولوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ تعلیم کے معاملہ میں لگاتار حکومت کی مدد کرتے آئے ہیں ، اس کے باوجود حکومت نجی اسکولوں کو بند کرنے کی سازش کررہی ہے۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Dec 18, 2020 06:15 PM IST